خالد لطیف کی سزا برقرار ، جرمانہ ختم

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقرر کردہ آزاد ثالثی جج جسٹس ( ریٹائرڈ ) فقیر محمد کھوکھر نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث پاکستانی کرکٹر خالد لطیف پر عائد پانچ سالہ پابندی کی سزا برقرار رکھی ہے تاہم ان پر عائد کردہ دس لاکھ روپے جرمانہ ختم کردیا گیا ہے۔
خالد لطیف نے پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کے مطابق خالد لطیف پر عائد کردہ تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف بک میکر سے دو بار ملے بلکہ دوسری بار وہ ساتھی کرکٹر شرجیل خان کو بھی اپنےساتھ لے گئےتھے ۔
تفضل حیدر رضوی نے جرمانہ ختم کیے جانے کے بارے میں کہا کہ پانچ سالہ پابندی کے فیصلے سے بظاہر ان کا کریئر ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے اور وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ جرمانے کی رقم ادا کرسکیں۔
خالد لطیف کے وکیل بدرعالم آزاد ثالثی جج کے سامنے پیش نہیں ہوئے ۔ ماضی میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے خالد لطیف اور شرجیل خان کے سلسلے میں ٹریبونل کی سماعتوں میں پیش نہیں ہوتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان سپر لیگ کے آغاز پر اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں ملوث خالد لطیف اور شرجیل خان پر پانچ سالہ پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
اس اسکینڈل میں دیگر کرکٹرز ناصر جمشید اور شاہ زیب حسن بھی مبینہ طور پر ملوث پائے گئے تھے۔





