اولمپک چیمپیئن سیمون بائلز بھی جنسی ہراس کا شکار

چار بار اولمپک چیمپیئن رہنے والی امریکی جمناسٹ سیمون بائلز نے کہا ہے کہ امریکی ٹیم میں جمناسٹکس کے سابق ڈاکٹر لیری نسّر نے ان کا جنسی استحصال کیا۔

ایک جذباتی بیان میں ریو اولمپکس کی سٹار نے کہا کہ وہ نسّر کو اپنی خوشی اور محبت چوری کرنے نہیں دیں گی۔

لیری نسّر کو بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر رکھنے کے لیے 60 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ انھوں نے جمناسٹ کے ساتھ زیادتی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

بائلس نے کہا: 'مجھے پتہ ہے کہ یہ خوفناک تجربہ میری تعریف نہیں بلکہ میں اس سے زیادہ بہت کچھ ہوں۔'

یہ بھی پڑھیے

گیبی ڈگلس سمیت تین سابق امریکی اولمپیئنز نے نسّر پر علاج کے بہانے جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

خیال رہے کہ گیبی نے بائلز کے ساتھ سنہ 2016 کے ریو اولمپکس میں ٹیم ایونٹ کے زمرے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

نسّر کو رواں ماہ ان دو معاملے میں ‎سزا سنائی جائے گی جس میں انھوں نے خواتین جمناسٹس کے ساتھ دست درازی کا اعتراف کیا ہے۔

54 سالہ لیری نسّر کو دسمبر میں اپنے کمپیوٹر پر بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی تصاویر رکھنے کے تین معاملے میں قید کی سزا دی گئي ہے۔

نسّر کے وکلاء نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا ہے کہ وہ سیمون بائلز کے بیان پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی جمناسٹکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات سے مکمل طور پر دلبرداشتہ، پر تاسف اور غصے میں ہے کہ سیمون یا ہمارے دوسرے ایتھلییٹ لیری نسّر کے خوفناک عمل کے شکار ہوئے۔'

بائلز نے ریو اولمپکس میں چار طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ انھوں نے 'فیلنگس 'می ٹو' ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر نسّر کو مورد الزام ٹھہرایا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا: 'میں بہت سے متاثرین میں سے ایک ہوں جن کا نسّر نے جنسی استحصال کیا۔ آپ میں سے بہت سے لوگ مجھے خوش رہنے والی، ہنسمکھ اور چست و توانا لڑکی کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں نے خود کو ٹوٹی ہوئی محسوس کیا ہے۔ میں اپنے دماغ میں اس آواز کو جتنا دبانا چاہتی ہوں وہ اتنا تیز ہوتا جاتا ہے۔ اب مجھے اپنی کہانی کہنے میں کوئی خوف نہیں۔

وہ مزید لکھتی ہیں: ان خراب تجربات سے پیچھا چھڑانا ناممکن حد تک مشکل ہے۔ میرا دل یہ سوچ کر مزید ٹوٹتا ہے کہ میں سنہ 2020 میں ٹوکیو اولمپکس کے مقابلوں کی تیاری کے لیے لگاتار انھیں فسیلیٹیز میں جاؤں گی جہاں میرا استحصال ہوا۔'

میں انوکھی، سمارٹ، باصلاحیت، مستعد اور پرجوش ہوں۔ میں نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ اور آپ سب سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں کبھی شکست تسلیم نہیں کروں گی۔

'مجھے اس کھیل سے بہت محبت ہے اور میں کبھی بھی ہار ماننے والی نہیں رہی۔ میں اس شخص کو یا دوسرے افراد جنھوں نے اس کی ہمت افزائی کی انھیں اپنی محبت اور اپنی خوشی چھیننے نہیں دوں گی۔

لیری نسّر سنہ 1980 کی دہائی سے جولائی سنہ 2015 تک امریکی جمناسٹکس کے پروگرام سے منسلک رہے پھر انھیں سپورٹس کی ضابطہ کمیٹی نے برطرف کر دیا۔

130 سے زیادہ خواتین نے ان کے خلاف جنسی استحصال کے معاملات درج کیے ہیں۔

اولمپکس میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والی ایلی ریزمین اور میک کیئلا میرونی بھی ان کے خلاف شکایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ نسّر کے سکینڈل کے سبب امریکی جمناسٹکس کے صدر سٹیو پینی کو سنہ 2016 میں مستعفی ہونا پڑا تھا کہ وہ جنسی استحصال کے واقعات کی نشاندہی کے باوجود بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہے۔