کلین سوئیپ نہ ہوا تو بحیثیت کوچ مایوسی ہوگی: مکی آرتھر

مکی آرتھر

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو پوری امید ہے کہ پاکستانی ٹیم جس عمدہ کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز پانچ صفر سے جیت جائے گی۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پانچواں اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل پیر کو شارجہ میں کھیلا جائے گا۔

مکی آرتھر نے اتوار کو شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کی پریکٹس کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں میں جیت کی بھوک موجود ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کلین سوئپ ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو بحیثیت کوچ انہیں مایوسی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

line

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ اب تک وہ جس طرح کا کھیل پیش کرتی آئی ہے اسے برقرار رکھے۔

واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں بھارت سے ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم اب تک لگاتار آٹھ ون ڈے انٹرنیشنل جیت چکی ہے۔

مکی آرتھر نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کھلاڑی اپنی ذمہ داری اور اپنے رول کو کتنا سمجھتے ہیں۔

'بحیثیت کوچ میں اپنے کھلاڑیوں سے یہی تقاضا کرتا ہوں کہ وہ جارحانہ کرکٹ کھیلیں‘۔

مکی آرتھر نے ٹیم کے ایک کھلاڑی کو فکسنگ کی مبینہ پیشکش کے بارے میں کہا کہ اس کھلاڑی نے بہت ہی اچھا کام کیا اور بروقت اس کی رپورٹ کر کے اس معاملے کو بالکل صحیح انداز میں ہینڈل کیا۔

'درحقیقت اس کھلاڑی نے قواعد وضوابط کی پاسداری کر کے ٹیم اور پوری کرکٹ کے لیے ایک بہترین مثال قائم کی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

line

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ایک ایک کھلاڑی سے مطمئن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تمام کے تمام ذہین نوجوان کرکٹرز ہیں اور انہیں اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر ان میں سے کسی سے بھی مشکوک فرد رابطہ کرے تو وہ ویسا ہی کریں گے جیسا کہ اس کھلاڑی نے اس سیریز کے دوران کیا ہے۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ حسن علی کا عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنا، بابراعظم کا نمبر چار پوزیشن پر ہونا اور محمد حفیظ کا دوبارہ عالمی نمبر ایک آل راؤنڈر بننا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ٹیم ون ڈے کی ایک بہت ہی اچھی ٹیم بنتی جارہی ہے۔