’مجھے لگتا ہے ہم سب ذہنی بیمار ہیں‘

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی لڑکیاں فٹ بال کے لیے سماجی قدغنوں اور سرکاری بے مروتی کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔
نادیہ سات سال سے کشمیری خواتین کی فٹ بال ٹیم تشکیل دینے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنی سہیلیوں، ہم جماعت لڑکیوں اور کھیل کود کی شوقین طالبات کے ساتھ برسوں رابطوں کے بعد 15 سے 18 سال کی عمر کے درمیان 11 لڑکیوں کی ٹیم بنا لی ہے۔
وادی میں کھیل کے سب سے بڑے میدان بخشی سٹیڈیم میں نادیہ ان لڑکیوں کو ہر شام فٹ بال کے گر سکھا رہی ہیں۔ ’یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایک جانب سماج ہے جو ہمیں گمراہ سمجھتا ہے، دوسری جانب حکومت ہے جو ہمیں سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔ لیکن ہم نے طے کر لیا ہے کہ کشمیری لڑکیوں کی فٹ بال ٹیم بن کے رہے گی۔'
ٹیم کی ایک کھلاڑی سید ایمن کہتی ہیں 'میرے والدین نے مجھے کھیلنے کی اجازت تو دی ہے لیکن وہ بھی کبھی کبھی لوگوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ ہم وردی پہن کر نکلیں تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔ ہمارے بھی ارمان ہیں، ہم فٹ بال ہی کھیل رہی ہیں، کوئی چوری تو نہیں کر رہیں۔'

مونیسا صلاتی بھی ٹیم کی اہم کھلاڑی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لڑکے اور لڑکی کے درمیان امتیاز صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں ہے۔ 'حکومت بھی امتیاز برت رہی ہے۔ لڑکوں کی ٹیم کو سپانسر کیا جاتا ہے لیکن ہماری جیسے کوئی وقعت ہی نہیں۔ سٹیڈیم میں لڑکیوں کے لیے چینجنگ روم نہیں، پینے کا پانی تک نہیں، حکومت بیٹی پڑھاؤ ، بیٹی بچاؤ کا نعرہ دے رہی ہے لیکن بیٹیوں کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔
جموں کشمیر سٹیٹ سپورٹس کونسل کے سربراہ وحید الرحمن نے ان کشمیری لڑکیوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لیے ایک علیحدہ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا جہاں ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وحید کہتے ہیں 'ہم تو چاہتے ہیں کہ نوجوان کھیل کود میں دلچسپی لیں۔ ہم نے کئی مقابلے منعقد کروائے اور مرکزی حکومت کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔' تاہم فٹ بال ٹیم تشکیل دینے میں مصروف ان لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک فقط وعدوں پر ٹرخایا جا رہا ہے۔
ٹیم کی کوچ نادیہ کے مطابق کشمیر کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

ایسوسی ایشن نے فٹبال اور پریکٹس کا سامان مہیا کیا ہے لیکن ان لڑکیوں کو بہتر تربیت کے لیے پیشہ وارانہ کوچ کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔
نادیہ کہتی ہیں کہ ان مشکلات کی وجہ سے مقابلے کی اہل ٹیم بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے کشمیری لڑکیاں کھیل، تجارت، فن اور دوسری سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
مونیسا کہتی ہیں 'مجھے لگتا ہے ہم سب ذہنی بیمار ہیں۔ مجھے والدین کہتے ہیں کہ میں ایک فضول مشق کر رہی ہوں۔ ہر ایک کو یہی فکر رہتی ہے کہ کل کیا ہوگا کیونکہ آئے روز ہڑتال یا کرفیو ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی اپنے بچوں کو کھلاڑی یا ایکٹر بنانے کا شوق کیسے پالے گا؟'







