آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپین کے رافیل نڈال کی سال کے آخری گرینڈ سلیم یو ایس اوپن میں فتح
دنیا کے نمبر ایک ٹینس کھلاڑی رافیل نڈال نے جنوبی افریقہ کے کیون اینڈرسن کو شکست دے کر یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں مردوں کا سنگلز خطاب جیت لیا ہے۔
نیویارک کے فلشنگ میڈوز میں اتوار کو ہونے والے فائنل میں 31 سالہ نڈال نے تین سیٹس میں 6-3، 6-3 اور 6-4 سے کامیابی حاصل کی۔
رافیل نڈال نے تیسری دفعہ امریکی اوپن چیمپئن شپ جیتی ہے اور یہ ان کا مجموعی طور پر 16واں گرینڈ سلیم ٹائٹل ہے۔
سب سے زیادہ گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کے معاملے میں اب صرف سوئزرلینڈ کے راجر فیڈرر ہی ان سے آگے ہیں۔ فیڈرر نے 19 گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت رکھے ہیں۔
سپین کے سٹار کھلاڑی نڈال کے پاس اب دس فرنچ اوپن، تین یوایس اوپن، دو ومبلڈن اور ایک آسٹریلین اوپن ٹائٹلز ہیں۔
نڈال نے کہا: 'رواں سال جو ہوا وہ ناقابل یقین ہے۔ کئی سالوں کی پریشانیوں، انجریز اور بعض اوقات خراب کھیل کے بعد رواں سال کی ابتدا سے ہی یہ بہت جذباتی سیزن رہا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یو ایس اوپن ان کا آخری گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ ہے جس میں وہ اپنے چچا ٹونی کے ساتھ ہوں گے اس کے بعد سے ان کی کوچنگ کی ذمہ داری تنہا کارلوز مویا پر ہوگی جو خود بھی سابق ٹینس کھلاڑی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے اپنے چچا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: 'انھوں نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے میں اس کا اچھی طرح شکریہ بھی ادا نہیں کر سکتا۔ شاید ان کے بغیر میں کبھی ٹینس نہیں کھیلتا۔ یہ بڑی بات ہے کہ ان جیسا کوئی تھا جو ہمیشہ مجھے آگے بڑھاتا رہا۔
رافیل نڈال نے رواں سال جون میں فرنچ اوپن میں بھی جیت حاصل کی تھی۔ چار سال بعد انھوں نے ایک ہی سیزن میں دو گرینڈ سلیم میں کامیابی حاصل کی ہے۔
امریکی اوپن جیتنے کے بعد، نڈال نے کیون اینڈرسن کی تعریف کر تے ہوئے کہا: 'یہ دو ہفتے میرے لیے انتہائی اہمیت کے حامل رہے، لیکن سب سے پہلے میں کیون کو مبارکباد دینا چاہوں گا جنھوں نے چوٹ پر قابو پانے کے بعد عمدہ واپسی کی۔ آپ دوسرے کھلاڑیوں کے لیے مثال ہیں۔'
کیون اینڈرسن نے نڈال کی تعریف کی اور انھیں اپنا آئیڈیل بتایا۔ انھوں نے کہا: 'مجھے معلوم ہے کہ ہم دونوں ہم عمر ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ میں نے ساری زندگی آپ کو کھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ انتہائی سخت حریف ہیں اور ہمارے کھیل کے عظیم ترین سفیروں میں سے ایک ہیں۔'