ٹوئٹر پر انڈین ویمن ٹیم کی کپتان کی تصویر پر تنقید

انڈیا کی ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان میتالی راج ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر کی اشاعت کے بعد خبروں میں ہیں۔

اس تصویر میں میتالی راج کو اپنی تین سہلیوں کے ساتھ ایک بڑے گلے والے (ڈیپ نیک) لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اُن کے اس لباس پر سوشل میڈیل پر جہاں بہت سے لوگوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کئی افراد نے کہا کہ انھیں اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق ہے۔

ٹویٹر پر ویبھو مشرا نے لکھا: 'میتالی ذرا کور افشاں، اور امیرن کھرانا سے پورے کپڑے پہننا سیکھ لیں۔ آپ اچھی ہیں، جسم نہیں دکھائیں گی تب بھی اچھی دکھائی دو گی۔'

رگ وید ٹھاکر نے لکھا: 'کترینہ کیف کو اس طرح کے ملبوسات پہننے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں، لیکن کیا میتالی کو بھی اس کے لیے پیسہ ملتے ہیں۔؟ وہ ملک کی نمائندگی کرتی ہیں، انھیں عوامی مقامات پر مہذب طور طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔'

خان معراج احمد نے ٹویٹ کیا: 'جیسے کہ بہت سے لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ماڈرن ہونے کا مطلب جسم کی نمائش اور شو بازی ہے، اگر ایسا واقعی ہے تو پھر جانور انسانوں سے زیادہ ماڈرن ہیں۔'

چندو پرنس فین کے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا گيا: 'یہ اچھی بات نہیں ہے، آپ سے اس طرح کی تصویر کی توقع نہیں تھی۔'

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے میتالی کا دفاع بھی کیا ہے اور ان کے لباس پر تنقید کرنے والوں پر نکتہ چینی کی ہے۔

لوئس جوزف نے لکھا: 'کپتان آپ خوبصورت نظر آرہی ہیں، تنگ نظر لوگوں کی باتوں پر توجہ نہ دیں، انھیں نہیں معلوم کہ آپ کون ہیں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔'

ہریش ارورا نے لکھا: 'یہی تو ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ چند روز قبل تک جو ہمارے ملک کی بیٹی تھی آج وہ دنیا کی نظروں میں خراب ہوگئی ہے، صرف اپنے ایک لباس کی وجہ سے۔'

انڈیا 2017 کے نام سے ایک ٹویٹر ہینڈل نے لکھا کہ 'میتالی بھی ایک انسان ہیں، ان کے لباس پر طنز کرنا بند کریں۔ ہم آپ پر فخر کرتے ہیں۔'

راجیو کروپ نے لکھا کہ 'جو تنگ نظر ہیں اور جن کے دماغ اخروٹ کی طرح چھوٹے ہوتے ہیں، انھیں ہر چیز غلط نظر آتی ہے۔ ایسے لوگوں پر شرم آتی ہے۔'

پریم کمار نے لکھا: 'کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا ہے۔'

کرشن نندو لکھتے ہیں: 'برائے مہربانی انڈین لڑکیوں کو اپنی زندگی جینے دو، یہ مت طے کرو کہ انھیں کیا پہننا ہے اور کیا نہیں، بلکہ انھیں اپنی پسند کے مطابق خود فیصلہ کرنے دو۔'