ورلڈ کپ ہاکی کوالیفائر کے کوارٹر فائنل میں پاکستان کا مقابلہ ارجنٹائن سے

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی ہاکی ٹیم لندن میں جاری ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں اپنا کوارٹر فائنل جمعرات کو اولمپک چیمپئن ارجنٹائن کے خلاف کھیل رہی ہے۔
پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اس کوالیفائنگ راؤنڈ میں مایوس کن رہی ہے اور اسے اپنے پول میں چار میں سے تین میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ ہالینڈ کے خلاف چار گول سے ہاری، دوسرے میچ میں کینیڈا نے اسے چھ گول سے ہرادیا جبکہ تیسرے میچ میں روایتی حریف انڈیا نے اسے ایک کے مقابلے میں سات گول سے شکست دی۔
پاکستانی ٹیم نے واحد کامیابی سکاٹ لینڈ کے خلاف تین ایک سے حاصل کی۔
اگر سکاٹ لینڈ کی ٹیم کینیڈا کو شکست دے دیتی تو پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکتی تھی لیکن کینیڈا اور سکاٹ لینڈ کا میچ ایک ایک گول سے برابر رہا اور یوں پاکستانی ٹیم اپنے پول میں چوتھے نمبر پر آنے کی وجہ سے کوارٹرفائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔
پول اے میں ارجنٹائن اور انگلینڈ کی ٹیمیں دس پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کوالیفائنگ راؤنڈ سے پانچ ٹیمیں آئندہ سال بھارت میں ہونے والے عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد نے ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے۔
شہباز احمد نے لندن سے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں قطعاً اس بات کی توقع نہیں تھی کہ پاکستانی ٹیم اتنے زیادہ گول سے اپنے میچز ہارے گی اور کینیڈا جیسی ٹیم بھی اس کے خلاف چھ گول کردے گی، یہ انتہائی حیران کن ہے۔
شہباز احمد نے کہا 'پاکستانی ٹیم کی اس مایوس کن کارکردگی کی دو اہم وجوہات میچ ٹمپرامنٹ اور فٹنس کی کمی ہے۔ پاکستانی ٹیم کا فٹنس لیول اور میچ ٹمپرامنٹ کسی بھی چھوٹی ٹیم کا بھی مقابلہ نہیں کرتا جو بڑی تشویش کی بات ہے۔'
شہباز احمد کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ کوارٹرفائنل میں پاکستانی ٹیم کو ذہن سے کسی بڑی ٹیم کا دباؤ نکال کر کھل کر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستانی ہاکی کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں لیکن اس کے لیے گراس روٹ اور جونیئر سطح پر سخت محنت کرنی ہوگی۔









