پاکستان اور انگلینڈ 25 سال بعد ناک آؤٹ میچ میں مدِمقابل

انگلینڈ اور ویلز میں کھیلی جا رہی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں بدھ کو میزبان انگلینڈ کا سامنا پاکستان سے ہوگا۔

اس مقابلے میں ایک طرف انگلینڈ کی ٹیم ہے جو چیمپیئنز ٹرافی میں اب تک ناقابل تسخیر رہی ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان کی ٹیم ہے جس کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

انگلینڈ کو ٹورنامنٹ کے آغاز سے فیورٹ سمجھا جا رہا ہے اور ان کی ٹیم اپنے تینوں گروپ میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچی ہے جہاں انھوں نے بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کو مؤثر انداز میں شکست دینے کے بعد آسٹریلیا کو بھی باآسانی شکست دی۔

دوسری جانب پاکستان کی ٹیم انڈیا کے ہاتھوں ہارنے کے بعد سری لنکا کے خلاف بھی ایک وقت ہار کے دہانے پر نظر آ رہی تھی، لیکن پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے بہترین اور ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچایا.

25 سال پہلے کا فائنل

اس میچ میں دونوں ٹیموں کے درمیان ایک زبردست مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں 25 سال بعد کسی ٹورنامنٹ کے ناک آؤٹ راؤنڈ میں ایک دوسرے کا سامنا کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے آخری دفعہ 1992 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں ان دونوں ٹیموں کی کسی ناک آؤٹ میچ میں ملاقات ہوئی تھی۔ 25 مارچ، 1992 کو میلبرن کے تاریخی میدان میں میں کھیلے گئے مقابلے میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوور میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنائے تھے۔ کپتان عمران خان نے سب سے زیادہ 72 رنز بنائے تھے۔

اس کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 50 ویں اوور میں 227 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ نیل فیئر برادر نے 62 رن ضرور بنائے، لیکن وسیم اکرم کی تباہ کن بولنگ کے سامنے انگلینڈ کی ٹیم بے بس ہو گئی۔

پاکستان نے 22 رنز کی فتح کے ساتھ ورلڈ کپ جیت کر اپنے کپتان عمران خان کو شاندار الوداعی تحفہ دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ٹورنامنٹ کےگروپ مقابلے میں انگلینڈ نے پاکستان کی اننگز صرف 74 رنز پر سمیٹ دی تھی لیکن بارش کی وجہ سے اس مقابلے کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔ اگر وہ میچ مکمل ہو جاتا تو شاید پاکستان اس ٹورنامنٹ سے باہر ہوجاتا۔

کس کا دعویٰ کتنا مضبوط

جہاں جو روٹ، آئین مورگن اور ایلکس ہیلز جیسے بلے باز زوردار فارم میں نظر آ رہے ہیں وہیں بولنگ میں لیئم پلنکٹ اور عادل راشد کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ بین سٹوکس جیسے آل راؤنڈر بھی ٹیم میں موجود ہیں۔ خراب فارم کی بنا پر ٹیم مینجمنٹ سیمی فائنل مقابلے کے لیے اوپننگ بیٹسمین جیسن روئے کی جگہ جونی بیئرسٹو کو آزما سکتی ہے۔

انگلش ٹیم کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کا فائدہ بھی مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ 14 ون ڈے مقابلوں میں 12 بار انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دی ہے لیکن آخری بار ان دونوں ٹیموں کا مقابلہ گذشتہ سال کارڈف کے میدان میں ہی ہوا تھا جہاں پاکستان نے انگلینڈ کو ہرا دیا تھا۔

باوجود ان سب کے انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے چیلنج کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔

کپتان سرفراز احمد نے سری لنکا کے خلاف جس طرح ٹیم کو جیت دلائی، اس ٹیم کا حوصلہ بھی بڑھا ہوا ہے. ٹیم میں بابر اعظم، محمد عامر اور حسن علی جیسے نیچرل ٹیلنٹ والے کھلاڑی موجود ہیں۔

اس پس منظر میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا انگلینڈ 25 سال پہلے ملنے والی شکست کا بدلہ اپنے گھر کے میدان پر لے سکے گا؟