آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا پاکستانی بولنگ انگلینڈ کی بیٹنگ کو روک پائے گی؟
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چیمیپئنز ٹرافی کا پہلا سیمی فائنل بدھ کو کارڈف میں کھیلا جائے گا۔
پاکستانی ٹیم سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچی ہے۔
پاکستان نے اپنے گروپ میں جنوبی افریقہ کو شکست دی جبکہ بھارت کے خلاف اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستانی ٹیم کا آئی سی سی چیمیپئنز ٹرافی مقابلوں میں یہ چوتھا سیمی فائنل ہو گا۔
وہ سنہ 2000 میں نیوزی لینڈ، سنہ 2004 میں ویسٹ انڈیز اور سنہ 2009 میں نیوزی لینڈ سے ہار چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انگلینڈ چیمیپئنز ٹرافی کی واحد ناقابل شکست ٹیم ہے جس نے اپنے گروپ میں بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو ہرایا ہے۔
چیمیپئنز ٹرافی میں انگلینڈ کی ٹیم کا بھی یہ چوتھا سیمی فائنل ہو گا۔
اس سے قبل وہ تین میں سے دو بار فائنل میں پہنچی لیکن دونوں بار سنہ 2004 اور سنہ 2013 میں اسے اپنے ہوم گراؤنڈ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2009 میں اسے آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں ہرایا تھا۔
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو اس وقت عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مکمل ٹیم کہا جاتا ہے جس نے سنہ 2015 کے عالمی کپ کے بعد اپنے کھیلنے کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔
سنہ 2015 کے عالمی کپ میں انگلینڈ کی ٹیم بنگلہ دیش سے ہار کر گروپ مرحلے سے ہی وطن واپسی پر مجبور ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد سے وہ جو کرکٹ کھیل رہی ہے اس نے سب کو حیران کردیا ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی کپ کے بعد سے وہ اب تک 23 مرتبہ 300 سے زائد رنز سکور کرچکی ہے جبکہ اس کے بعد دوسری ٹیم جس نے سب سے زیادہ مرتبہ 300 یا زائد رنز بنائے ہیں وہ جنوبی افریقہ ہے۔
جنوبی افریقہ کی ٹیم 13 بار یہ کارنامہ سر انجام دی چکی ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی ٹیم عالمی کپ کے بعد سے اب تک صرف آٹھ مرتبہ 300 یا زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوسکی ہے۔
پاکستانی بولنگ لائن کے لیے یہ کسی امتحان سے کم نہ ہوگا کہ وہ انگلینڈ کی بیٹنگ کے سرچڑھتے طوفان کو کس طرح روکتی ہے؟
دوسری جانب پاکستان کے نقطہ نظر سے سینئر بیٹسمینوں کا ناکام ہونا تشویش کا باعث ہے۔
چیمیپئنز ٹرافی کے اب تک کے تین میچوں میں شعیب ملک، بابراعظم اور محمد حفیظ میں سے کوئی بھی نصف سنچری بھی نہیں بنا سکا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بولنگ کے شعبے میں حسن علی تین میچوں میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے سات وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
انگلینڈ کی مضبوط بیٹنگ لائن میں سوائے جیسن روئے کے تمام ہی بیٹسمین فارم میں ہیں جن میں سے بین سٹوکس اور جو روٹ نے سنچریاں بنائی ہیں جبکہ کپتان مورگن اور ایلکس ہیلز نے دو دو نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔
بولنگ میں پلنکٹ آٹھ وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ لیگ سپنر عادل رشید نے دو میچوں میں چھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ان کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین جس آسانی سے آؤٹ ہوئے وہ کوئی اچھی بات نہیں ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف مثبت کرکٹ کھیلے گی۔
انگلینڈ کی ٹیم گذشتہ سال پاکستان کے خلاف ٹرینٹ برج میں تین وکٹوں پر 444 رنز بنا چکی ہے جو ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور ہے۔
انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز چار ایک سے جیتی تھی۔
پاکستان نے سیریز میں واحد کامیابی اسی کارڈف کے میدان میں 303 رنز کا ہدف عبور کر کے ہوئے حاصل کی تھی اور اس میں بھی سرفراز احمد کے 90 رنز نمایاں تھے۔