عالمی رینکنگ نہیں بلکہ جو ٹیم میچ کے دن اچھی کارکردگی دکھائے گی وہی جیتے گی

    • مصنف, فراز ہاشمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

انگلینڈ اینڈ ویلز میں جاری چیمپینئز ٹرافی کے اب تک کے مقابلوں نے آئی سی سی کی ٹیموں کی عالمی رینکنگ کو بے معنی کر دیا ہے۔

رینکنگ میں سر فہرست جنوبی افریقہ اور تیسرے نمبر پر انڈیا کو رینکنگ میں سب سے نیچے کی ٹیموں سے جس طرح گروپ میچوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے اس سے ایک مرتبہ پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ رینکنگ کی بنیاد پر کسی بھی ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں میچ کے نتیجے کے بارے میں قبل آز وقت کچھ کہنا درست نہیں۔

جنوبی افریقہ آئی سی سی کی رینکنگ میں سرفہرست ہے لیکن اس کے مایہ ناز بلے باز ہاشم آملہ، ڈیویلیئرز اور کوئنٹن ڈی کوک پاکستان کے بولروں کے سامنے بے بس نظر آئے۔ پاکستان نے جس طرح ان کے بیٹسمینوں کو 220 کے سکور تک محدود کردیا پاکستان نے میچ وہیں اپنے نام کر لیا تھا۔ اس کے بعد رہی سہی کسر بارش نے پوری کر دی اور پاکستان با آسانی میچ جیت گیا۔

بالکل اسی طرح انڈیا کو سری لنکا کے سامنے جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس سے بھی رینکنگ بالکل بے معنی دکھائی دی۔

سری لنکا کے بیٹسمین مکمل طور پر میچ پر چھائے رہے اور انڈیا کے بولر صرف ایک کھلاڑی کو آؤٹ کر سکے اور باقی دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔ 321 کا ہدف کوئی آسان ہدف نہیں تھا جو سری لنکا نے ایسے عبور کر کے میدان سے باہر آئے جیسے وہ کسی پارک میں چہل قدمی کر کے آیے ہوں۔

اس کے بعد بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔

اب تک ہونے والے تمام میچوں سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ رینکنگ نہیں بلکہ جو ٹیم میچ کے دن اچھی کارکردگی دکھائے گی اور اپنے اعصاب کو قابو میں رکھ کر کھیلی گی وہ میچ جیت سکتی ہے چاہے اس کا مقابلہ کتنی ہی بڑی ٹیم سے کیوں نہ ہو۔

انڈیا کے خلاف پاکستانی کھلاڑی اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکے اور باوجود اس کے کہ پاکستانی بولروں نے انڈیا کی اننگز کے دوران ابتدائی 40 اوورز تک کھیل قابو میں رکھا لیکن آخر میں کیچ چھوٹ جانے اور بارش ہو جانے سے میچ پر گرفت کھو بیٹھے۔ لیکن جنوبی افریقہ کی ٹیم کے خلاف نوجوان گیند بازوں نے جس معیاری بولنگ کا مظاہرہ کیا وہ ہی پاکستان کی سری لنکا کے میچ میں کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔