متحدہ عرب امارات میں ’غیر اخلاقی‘ ہیئر سٹائل پر فٹبالرز کو نوٹس

اساموہاہ گیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپچھلے دنوں اساموہا گیان نے افریقہ کپ کے مقابلوں میں گھانا کی طرف حصہ لیا تھا

متحدہ عرب امارات کی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق برطانیہ کے فٹ بال کلب سنڈر لینڈ کے سابق فاروڈ اور سٹرائیکر اساموہا گیان کا نام بھی ان 40 کھلاڑیوں میں شامل ہے جن کے بالوں کا انداز ’غیراخلاقی‘ ہے۔

31 سالہ اساموہا گیان شینگھائی کے ایک کلب کے جانب سے کھیلتے ہیں، تاہم آج کل وہ متحدہ عرب میں ہیں جہاں وہ دبئی کے کلب ’الاہلی` کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سنہ 2012 میں سعودی عرب کے گول کیپر ولید عبداللہ کو بھی ایک ریفری نے میچ سے پہلے اپنے ’غیر اسلامی‘ بال کٹوانے کو کہا تھا۔ ولید عبداللہ اُن دنوں الشباب نامی کلب کی جانب سے بھی کھیل رہے تھے۔

سعودی عرب کے قوانین کے مطابق ’موہاک‘ انداز میں حجامت کرانے پر پابندی ہے۔ اس ہیئر سٹائل کو ’موہیکن‘ انداز بھی کہا جاتا ہے اور اس میں کانوں کے اوپر کے بالوں کو بہت چھوٹا اور چوٹی کے بالوں کو لمبا رکھا جاتا ہے۔

کچھ اسلامی تعلیمات میں ’قضا‘ نامی انداز میں حجامت کو بھی خلاف مذہب سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں سر کے کچھ حصے کے بال کاٹے جاتے ہیں اور باقی چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں کسی بھی فٹ بال میچ کے ریفری کو حق حاصل ہے کہ وہ میچ سے قبل کھلاڑیوں کے بالوں کے انداز کو دیکھے اور اگر کسی کا ہیئر سٹائل مناسب نہ ہو تو اس کھلاڑی کو میچ کھیلنے سے روک دے۔

متحدہ عرب امارات میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کی دیکھا دیکھی بچے ان کے انداز میں بال رکھنا شروع کر دیتے ہیں، جو کہ مناسب نہیں۔

متحدہ عرب امارات کی فٹبال ایسوسی ایشن قوائد کے مطابق سب سے پہلے مذکورہ فٹ بال کلب کو خط لکھ کر خبردار کرتی ہے، اور اگر ان کی ہدایت پر عمل نہیں کیا جاتا تو ایسوسی ایشن کلب کو جرمانہ بھی کر سکتی ہے اور اگر پھر بھی کلب ان کی بات پر کان نہ دھرے تو ایسوسی ایشن مذکورہ کھلاڑی یا پورے کلب کو معطل کر سکتی ہے۔

اساموہا گیان کا نام ان 40 کھلاڑیوں میں شامل ہے جن کو خط بھیجے جا چکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں فٹ بال کی معروف ویب سائٹ ’اہداف‘ کے مطابق اساموہا گیان کو وارننگ سے پہلے، سہیل المنصوری کو بال کٹوانے کا کہا گیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات کے سنہ 2016 کے بہترین کھلاڑی عمر عبدالرحمان پر حجامت کرانے کی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔