پاکستانی کرکٹ کی بہتری کے لیے کانفرنس کا منصوبہ منسوخ

پی سی بی
،تصویر کا کیپشنپی سی بی کے مطابق گول میز کانفرنس کی جگہ اب پی سی بی کے چیئرمین سابق کرکٹرز کے ساتھ ورکنگ گروپ سیشنز میں شرکت کریں گے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں کرکٹ کی بہتری کے لیے مارچ 2017 میں بلائی جانے والی سابق کھلاڑیوں کی گول میز کانفرنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے بدھ کو لاہور میں جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستانی کرکٹ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹ کو آج کل ایک بار پھر ’فکسنگ سکینڈل‘ کا سامنا ہے۔

یہ سکینڈل متحدہ عرب امارات میں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز کے دوسرے ہی دن سامنے آیا تھا جب اسلام آباد یونائیٹڈ کے دو کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کر کے واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔

پی سی بی کے مطابق ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ کارروائی ایک بین الاقوامی سنڈیکیٹ سے مبینہ طور پر ان کے رابطے کے بعد عمل میں آئی تھی جو پاکستان سپر لیگ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ان کی معطلی کے بعد پی سی بی نے ایک اور پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کو بھی انسدادِ بدعنوانی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر معطل کر کے تمام فارمیٹس کی کرکٹ میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

ناصر جمشید

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنناصر جمشید کو انسدادِ بدعنوانی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر معطل کر کے ان کے تمام فارمیٹس کی کرکٹ میں حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی ہے

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ناصر جمشید ان دو افراد میں شامل تھے جنھیں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 13 فروری کو عالمی کرکٹ میں میچ اور سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں جاری تحقیقات کے تناظر میں گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کیا ہے۔

پی سی بی کے بیان کے مطابق گول میز کانفرنس کی جگہ اب پی سی بی کے چیئرمین سابق کرکٹرز کے ساتھ ورکنگ گروپ سیشنز میں شرکت کریں گے جو کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں منعقد کیے جائیں گے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ ان سیشنز کا مقصد ملک میں کرکٹ کے ڈھانچے کے بارے میں سابق کھلاڑیوں کے خیالات سے آگاہی حاصل کرنا اور ان کے مشورے لینا ہو گا۔