آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمتھ کی سینچری، پرتھ میں آسٹریلیا کی پاکستان پر سات وکٹوں سے فتح
آسٹریلیا نے پانچ ایک روزہ کرکٹ میچوں کی سیریز کے تیسرے میچ میں پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں دو ایک سے برتری حاصل کر لی ہے۔
پاکستان نے پرتھ میں کھیلے جانے والے میچ میں میزبان ٹیم کو فتح کے لیے 264 رنز کا ہدف دیا تھا جو سٹیون سمتھ اور ہینڈزکومب کی عمدہ بلے بازی کی بدولت آسٹریلیا نے 46ویں اوور میں حاصل کر لیا۔
ہینڈزکومب نے 82 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ سمتھ اپنے کریئر کی آٹھویں اور پاکستان کے خلاف دوسری سنچری مکمل کرنے میں کامیاب رہے اور دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد 108 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
آسٹریلیا کے اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور عثمان خواجہ نے ٹیم کو 44 رنز کا آغاز دیا اور اس شراکت کا خاتمہ جنید خان نے وارنر کو پویلین بھیج کر کیا۔
اس کے اگلے ہی اوور میں محمد عامر نے عثمان خواجہ کو بھی پویلین کی راہ دکھا دی۔
اپنا پہلا میچ کھیلنے والے ہینڈزکومب کو صفر کے سکور پر جنید خان نے کیچ تو کروا دیا لیکن ان کی گیند امپائر کی جانب سے نو بال قرار دے دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہینڈزکومب کو دوسرا موقع اس وقت ملا جب دس کے انفرادی سکور پر محمد نواز نے جنید خان کی ہی گیند پر ان کا کیچ ڈراپ کر دیا۔
ان مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہینڈزکومب نے نصف سینچری مکمل کی اور 82 رنز بنا کر حسن علی کی پہلی وکٹ بنے۔
اس سے قبل آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو اس نے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 263 رنز بنائے۔
پاکستانی اننگز کی خاص بات بابر اعظم کی عمدہ بیٹنگ رہی اور انھوں نے چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 84 رنز بنائے۔
انھوں نے اپنا 21واں ایک روزہ میچ کھیلتے ہوئے 1000 رنز بھی مکمل کر لیے۔
ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین 1000 رنز مکمل کرنے کا ریکارڈ مشترکہ طور پر سر ویوین رچرڈز، کیون پیٹرسن، جوناتھن ٹراٹ اور سٹیفن ڈی کاک کے پاس ہے اور اب فہرست میں بابر اعظم کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔
شرجیل خان نے آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے صرف 46 گیندوں پر اپنی نصف سینچری مکمل کی تاہم اگلی ہی گیند پر ہیڈ نے انھیں بولڈ کر دیا۔
اسد شفیق بھی صرف پانچ رنز بنا کر ہیڈ کا دوسرا شکار بنے۔
شعیب ملک اور بابر اعظم نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں سکور میں 63 رنز کا تیزی سے اضافہ کیا تاہم شعیب ملک 39 کے انفرادی سکور پر سٹین لیک کی پہلی وکٹ بنے۔
عمر اکمل نے 39 رنز بنائے اور انھیں ہیزل ووڈ نے آؤٹ کیا جبکہ عماد وسیم نو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے ہیزل ووڈ نے تین، ٹریوس ہیڈ نے دو، کمنز اور سٹین لیک نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
تیسرے ایک روزہ میچ کے لیے پاکستان نے وہی ٹیم میدان میں اتاری جس سے میلبرن میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں اور مچل مارش اور مچل سٹارک کی جگہ ہینڈزکومب اور سٹین لیک کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
اس سیریز میں برسبن میں کھیلے گئے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 92 رنز سے شکست دی تھی جبکہ پاکستان نے میلبرن میں دوسرے ایک روزہ میچ میں چھ وکٹوں سے فتح اپنے نام کی تھی۔