’کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میچ معمول کے مطابق کھیلا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI/ AFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ جمعرات سے کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میں شروع ہورہا ہے۔
کرائسٹ چرچ میں اتوار کی شب شدید زلزلہ آیا تھا تاہم نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ پہلا ٹیسٹ میچ معمول کے مطابق کھیلا جائے گا۔
پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز جیتنے کے بعد نیوزی لینڈ پہنچی ہے لیکن اس جیتی ہوئی سیریز کا اختتام شارجہ ٹیسٹ کی شکست کی صورت میں ہوا تھا۔
کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں بھرپور صلاحیت موجود ہے کہ وہ نیوزی لینڈ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے۔
یہ مصباح الحق کا بحیثیت کپتان 50 واں ٹیسٹ میچ ہوگا۔ وہ پچاس یا زائد ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرنے والے دنیا کے سولہویں کپتان ہوں گے۔
پاکستانی ٹیم 1984 ء کے بعد سے نیوزی لینڈ کے خلاف کبھی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف اس کی آخری ٹیسٹ سیریز جو گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تھی اس کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہوئی تھی جس میں نیوزی لینڈ نے شارجہ ٹیسٹ اننگز اور 80 رنز سے جیت کر سیریز برابر کردی تھی۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارت میں تین صفر سے ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم کا اپنے ہوم گراؤنڈ پر ریکارڈ اچھا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران وہ صرف آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہاری ہے۔ اس عرصے میں اس نے ویسٹ انڈیز، بھارت اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں جبکہ پاکستان اور انگلینڈ سے سیریز برابر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیوزی لینڈ کے کوچ مائیک ہیسن کو امید ہے کہ ان کی ٹیم ہوم کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔ ہیگلے اوول کی وکٹ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس میں باؤنس بھی ہے اور وہ تیز ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ پاکستانی بولنگ اٹیک بہت ہی متوازن ہے جو نئی گیند کے ساتھ بھی سوئنگ کرسکتا ہے اور اس میں ریورس سوئنگ کی صلاحیت بھی ہے جبکہ اس کے پاس ایک اچھا سپنر بھی موجود ہے ۔
پاکستانی ٹیم کے بارے میں توقع یہی ہے کہ وہ چھ مستند بیٹسمینوں اور چار بولرز کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اس صورت میں بابراعظم کو ایک بار پھر ٹیم میں جگہ بنانے کا موقع مل جائے گا جنھوں نے دبئی میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں نصف سنچری بنائی تھی لیکن اگلے دو ٹیسٹ میچوں میں ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔
نیوزی لینڈ میں وکٹیں عام طور پر سیم بولرز کو مدد دیتی ہیں اور دونوں ٹیمیں ان کنڈیشنز میں اپنے تیز بولرز پر انحصار کریں گی۔
پاکستانی پیس اٹیک میں وہاب ریاض، محمد عامر اور سہیل خان کی شمولیت متوقع ہے۔
ہیگلے اوول میں اب تک صرف دو ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں۔ دوسال قبل نیوزی لینڈ نے اس میدان میں سری لنکا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی لیکن اس سال اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں سات وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ وہی میدان ہے جہاں پاکستان نے گزشتہ سال ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کھیلا تھا جس میں اسے ایک سو پچاس رنز سے شکست ہوئی تھی۔







