پاکستان اور انڈیا کی دو طرفہ کرکٹ سیریز کا کوئی امکان نہیں: انوراگ ٹھاکر

انوراگ ٹھاکر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانوراگ ٹھاکر سپریم کورٹ کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر متفق نہیں ہیں

انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سربراہ انوراگ ٹھاکر نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کرکٹ سیریز کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

انھوں نے اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگلے سال انڈیا کی کرکٹ ٹیم کی چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت مشکل ہو گی۔

پیر کو کولکتہ میں دوسرے ٹیسٹ کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'پاکستان کے ساتھ سیریز کو بھول جائیں اور پہلے یہ سوچیں کہ کیا انڈیا چیمپیئنز ٹرافی میں حصہ لے سکے گا؟'

چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ آئندہ برس یکم جون سے انگلینڈ میں شروع ہوگی جس میں دنیائے کرکٹ کی آٹھ ٹاپ ٹیمیں شرکت کریں گی۔

تاہم اس ٹورنامنٹ سے چند دن قبل ہی انڈیا میں آئی پی ایل ختم ہوگی۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے تجویز دی ہے کہ کھلاڑیوں کو تھکن اور زخمی ہونے سے بچانے کے لیے آئی پی ایل کا شیڈول ایسا رکھا جائے کہ اس سے دو ہفتے قبل اور دو ہفتے بعد تک کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہ ہو۔

تاہم بی سی سی آئی کے سربراہ نے سپریم کورٹ کی طرف سے وقفے کی اس تجویز کو رد کر دیا ہے۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس وقفے کی بنا پر شدید مالی نقصان ہو سکتا ہے اور اس کے لیے پورے سال کا شیڈول دوبارہ مرتب کرنا پڑے گا۔

انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگلے برس انڈیا کی کرکٹ ٹیم چیمپیئنز ٹرافی میں حصہ لے سکے گی یا نہیں۔انھوں نے کہا کہ وقفے کی صورت میں بی سی سی آئی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انھوں نے آئی پی ایل کروانی ہے یا چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینا ہے۔

سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے انتظامی معاملات میں بنیادی اصلاحات تحویز کی ہیں جو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر مل لودھا کی سربراہی میں قائم ماہرین کے ایک پینل نے مرتب کی تھیں۔

من موہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنموہالی میں پاکستان اور بھارت کے سابق وزرا اعظم نے میچ دیکھا تھا

بی سی سی آئی نے گذشتہ ہفتے ممبئی میں ہونے والے اپنے ایک خصوصی اجلاس میں لودھا رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر عملدرآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں 15 دن کا وقفہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی پر بادشاہوں کی طرح کا رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے رویے کو درست کرے۔

ٹھاکر نے کہا ہے کہ یہ تجاویز اس وقت دی گئیں تھیں جب آئی پی ایل پر میچ فکسنگ اور کرپشن کے الزام لگ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان تجاویز پر عملدرآمد سے شدید مالی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اکتوبر کی چھ تاریخ کو سپریم کورٹ میں اگلی سماعت کے دوران بی سی سی آئی اس بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

انوراگ ٹھاکر نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ بی سی سی آئی کھیل کے دوران ایمپائر کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام ڈی آر ایس کے استعمال کے معاملے پر غور کرنے کو تیار ہے۔

ڈی آر ایس جس میں گیند کی لائن کا تعین کرنے والی ٹیکنالوجی 'ہاک آئی' شامل ہے وہ اسی صورت میں استعمال کی جاتی ہے جب میچ میں شامل دونوں ٹیمیں اس کے استعمال پر متفق ہوں۔

دنیا بھر میں انڈیا واحد ٹیم ہے جو اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر تیار نہیں ہوتی۔

انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ'جب ہمیں یقین ہو جائے گا کہ یہ ٹیکنالوجی سو فیصد درست فیصلے کرنے میں مدد گار ہوتی ہے تب ہم اس کے استعمال پر تیار ہو جائیں گے۔'