جرمنی:دونوں بازوؤں کا ٹرانسپلانٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں ڈاکٹروں نے دونوں ہاتھوں سے معذور ایک شخص کو ٹرانسپلانٹ آپریشن کے بعد ایک مردہ شخص کے بازو لگا دیئے ہیں۔ چون (54) سالہ کسان کے ایک حادثے میں دونوں بازو کٹ گئے تھے۔ اپنے بازو عطیہ کرنے والے نوجوان شخص کا اس ٹرانسپلانٹ آپریشن سے کچھ دیر قبل ہی انتقال ہوا تھا۔ یہ ٹرانسپلانٹ آپریشن جو پندرہ گھنٹے جاری رہا گزشتہ ہفتے ہوا تھا اور اس کے بعد جس شخص کو بازو لگائے گئے روبصحت ہے۔ تاہم اِس کو اپنے بازو استعمال کرنے میں دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ بازووں کی ٹرانسپلانٹ کے آپریشن اس سے قبل بھی کیئے جا چکے ہیں۔ اس نوعیت کا پہلا ٹرانسپلانٹ سن دو ہزار تین میں آسٹریا میں ہوا تھا جس میں ایک شخص کے کلائی سے آگے ہاتھ لگائے گئے تھے۔ لیکن جرمنی میں ہونے والے آپریشن میں کھونیوں سے نیچے تک بازو لگائے گئے ہیں۔ یہ آپریشن مینونخ یونیورسٹی کلینک میں ہوا جہاں چالیس ڈاکٹروں، نرسوں اور امدای عملے نے پندرہ گھنٹے طویل اس آپریشن میں حصہ لیا۔ اس کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر رینئر گرڈنگر کہتے ہیں بازووں کے لگائے جانے کا یہ آپریشن بہت خوش اسلوبی سے ہوا ہے۔
اس آپریشن میں شامل سرجن ایڈگر بیمر نے کہا کہ سب سے مشکل کام معذور شخص کے جسم اور نئے لگائے جانے والے بازوں میں خون کا دوران جاری کرنا تھا کیونکہ عطیہ کیئے ہوئے بازو کی عمر نسبتاً کم تھی۔ انہوں نے کہا ’ہم نے مریض کو یہ بات پوری طرح باور کرا دی تھی کہ اُسے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کے جسم سے لگائے گئے بازو کسی اور کے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ’ دل کے ٹرانسپلاٹ کرتے وقت بھی مریضوں سے بات کہی جاتی ہے لیکن اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔‘ ڈاکٹروں اس مریض کی پوری طرح نگہداشت کر رہے ہیں کہ کہیں اس کا جسم ان نئے بازوں کو قبول کرنے سے انکار نہ کردے۔ یہ مریض ابھی اپنے بازوں کو حرکت نہیں دے سکتا لیکن ڈاکٹروں کو امید ہے کہ ان کی رگیں ہر روز اعشاریہ صفر چار انچ کی رفتار سے پھیلیں گی۔ اگر مریض کی رگیں اس رفتار سے پھیلتی رہیں تو مریض کو اپنے بازو کو حرکت دینے اور استعال میں لانے میں دو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ اس کلینک میں ہاتھوں اور پلاسٹک سرجی کے ایک ماہر ہانس گوانتھر کا کہنا ہے کہ یہ سارے میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے۔ برطانیہ میں ٹرانسپلانٹ کی ماہر نیدی حکیم کا جو کہ لندن کے ہیمرسمتھ ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ شعبے کی سربراہ ہیں کہنا ہے کہ ہاتھ جتنا اوپر سے جوڑے جائیں اتنا ہی آسان ہوتا ہے کیونکہ اوپر رگیں کم ہوتی ہیں اور ایک ہڈی کو جوڑنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس میں حسیات کا پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے اور جتنا اوپر سے بازو جوڑے جائیں یہ اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازو کو حرکت دینا اور استعمال میں لانا بھی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے مریض کو بہت زیادہ مالش کر ہر روز اور ایک طویل عرصے تک ضرورت ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||