ایمیزن، انسان اور فطرت کا مستقبل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمیزن کا نام آتے ہی لوگوں کے ذہن میں نہایت گھنے اور غیر آباد جنگل کا تصور آتا ہے جہاں طرح طرح کے چرند پرند اور کیڑے مکوڑے قدم قدم پر آپ حیران کرنے موجود ہیں تو خود دریائے ایمیزن میں ہر موڑ پر بڑے بڑے گھڑیال، مگرمچھ اور ایناکونڈا جیسے اژدہے پھاڑ کھانے کو منتظر ہیں۔ ایمیزن کے اس تصور میں کسی حد تک صداقت ہوسکتی ہے لیکن اس جنگل کو غیرآباد سمجھنا یقیناً ایک غلطی ہوگی کیونکہ تین کروڑ لوگ اس علاقے میں رہتے ہیں جو دریائے ایمیزن سے سیراب ہوتا ہے اور ایمیزونیا کہلاتا ہے۔ یہ علاقہ یوں آج اور زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجۂ حرارت کے مقابلے میں اس کا کردار بنیادی ہے۔ تحفظ ماحولیات پر اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر کی مرتب کردہ ایک رپورٹ کے مصنف ڈان نیپسٹڈ کے بقول عالمی ماحولیاتی تبدیلی اور ایمیزن کا مستقبل دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بہترین دستیاب شواہد سے معلوم ہوگیا ہے کہ ایمیزن کو بچانے کے لیے عالمی ماحولیات میں بہتری ضروری ہے لیکن ساتھ ہی عالمی ماحولیات میں بہتری کی خاطر بھی ایمیزن کو ہی بچانا ہوگا۔ ایمیزون کا کردار کاربن کے اخراج کو کنٹرول کرنے میں نہایت اہم ہے۔ ساری دنیا میں ہر برس جو دو سو بلین ٹن کاربن استوائی علاقوں کے جنگلات جذب کرتے ہیں، ان میں سے ستر بلین ٹن اکیلے ایمیزن کے جنگل جذب کرتے ہیں۔
ایمیزن کے لیے ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر کی ڈائریکٹر میگ سمنگٹن کہتی ہیں کہ اگر ایمیزن کی تباہی کی موجودہ رفتار جاری رہی تو سن دو ہزار تیس تک ایمیزونیا کا ساٹھ فیصد علاقہ یا تو ختم ہوجائے گا یا بری طرح تباہ ہوچکا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ کرۂ ارض میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار کا اخراج ہوگا جو عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کا بنیادی سبب بن رہی ہے۔ میگ سمنگٹن کے بقول جنگلات کی اس تباہی کا محرک جنگلات کی جگہ زراعت اور مویشی پالنے کے لیے زمین حاصل کرنا ہے جبکہ اس عمل میں جنگلات میں لگنے والی آگ سے مزید تیزی آرہی ہے۔ ایمیزونیا کا علاقہ جنوبی امریکہ کے نو ملکوں میں پھیلا ہوا ہے لیکن اس کا تین چوتھائی حصہ اکیلے برازیل میں واقع ہے۔ سن دو ہزار ایک میں سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق ایمیزونیا کے جنگلات کا کل رقبہ پچاس لاکھ مربع کلومیٹر تھا اور اس وقت تک جتنے جنگلات کاٹے گئے تھے وہ رقبے میں مجموعی طور پر فرانس اور جرمنی کے برابر علاقہ تھا۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پروگرام کے ڈائریکٹر ہانس ویرولم کا کہنا ہے کہ استوائی علاقوں کے جنگلات میں درختوں کی کٹائی کا مسئلہ ماحولیاتی تبدیلی ، بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور کم بارشوں کی وجہ سے سنگین تر ہورہا ہے اور ایمیزن بھی اسی وجہ سے خشک ہورہا ہے۔ ہانس ویرولم خبردار کرتے ہیں کہ’اس چیز کو لازماً روکنا ہوگا کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو انسان خود ہی ماحول کا توازن بہت خطرناک طریقے سے بگاڑ رہا ہوگا‘۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جنگلات کی کٹائی کا سب سے بڑا سبب زراعت اور مویشی پالنے کے زمین حاصل کرنا ہے۔ حال ہی میں برازیل کی حکومت نے ایمیزون کے ان جنگلات کے بچاؤ کے لیے کچھ ہنگامی قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔ برازیل کی وزیرماحولیات مارینا سلوا کے بقول اب حکومت انتہائی چوکس ہے اور یہ دکھا دینا چاہتی ہے۔ صنعت، زراعت اور مویشی بانی کی بقاء اور ترقی کے اور بھی طریقے ہیں اور جنگلات کی کٹائی کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایمیزن کی تباہی صرف ایمیزونیا کے ملکوں یا براعظم جنوبی امریکہ تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی درجۂ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی بگاڑ کے اثرات ہزارہا میل دور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی خشک سالی، بے موسم کے سمندری اور بارانی طوفان اور سیلاب کی صورت میں ایمیزون جیسے استوائی علاقوں کے جنگلات کی تباہی سے براہ راست نتھی ہیں۔ |
اسی بارے میں ایمیزون جنگلات کی ریکارڈ کٹائی19 May, 2005 | آس پاس گلوبل وارمنگ سے زیادہ تباہ کاریاں15 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||