مڈغاسکر جنگلی حیات کا خزینہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس سے جنگلی حیات کے لحاظ سے اہم خطوں کی نشاندہی کی جا سکے گی اور اس سے دنیا میں حیاتیاتی تحفظ کے لے کی جانے والی کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے گا۔ ماہرین نے اس طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے مڈغاسکر میں ایک ایسے خطے کی نشاندہی کی ہے جہاں مختلف اقسام کی جنگلی حیات پائی جاتی ہیں۔ سائنس نامی ایک جریدے میں ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس طریقہ کار سے ایسے علاقوں یا خطوں کا تعین کیا جا سکتا ہے جہاں انواع اقسام کی جنگلی حیات زندہ رہ سکتی ہے۔ امریکی کی کیلیفورنیہ یونیورسٹی کی بیائلوجسٹ کلیئر کریمن نے کہا کہ اپنی تغیراتی تاریخ کے لحاظ سے مڈغاسکر ایک انتہائی حیران کن خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے سولہ کروڑ سے آٹھ کروڑ سال پہلے افریقہ سے جدا ہونے کی وجہ سے نباتات اور جنگلی حیات نسبتاً دنیا سے الگ رہنے کی بنا پر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تغیراتی لیبارٹری کی طرح رہی اور یہاں جو کچھ پایا جاتا ہے وہ کسی نہ کسی لحاظ سے منفرد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ یہ دنیا کا چوتھا بڑا جزیرہ ہے اس لیے اس میں موسمی اعتبار سے مختلف خطے پائے جاتے ہیں۔ یہاں صحرا بھی ہیں، جنگل بھی ہیں اور پہاڑ بھی۔ اس جزیرے میں بہت تنوع ہے، اور یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں منفرد قسم کی نباتات اور جانور کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی خطے کو کیسے محفوظ کیا جائے۔ سن دو ہزار تین میں مڈغاسکر کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ ان علاقوں میں تین گنا توسیع کی جا رہی ہے جن کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے محفوظ قرار دیا گیا تھا تاکہ ملک کے نباتات اور جانوروں کو بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے خطرے سے بچایا جا سکے۔ ان کوششوں میں حکومت کی مدد کرنے کی غرض سے بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے مڈغاسکر میں پائے جانے والے دو ہزار تین سو جانوروں، کیڑے مکوڑوں اور نباتات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی تھیں۔ پروفیسر کریمن نے کہا کہ ان میں مڈغاسکر کے مخصوص قسم کے لیمور بندر، گیکو چھپکلی، مینڈک، چونٹیاں، تتلیاں اور مختلف پودے بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے بعد ان کا نئے طریقہ کار کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جب دو ہزار تین سو جانوروں اور نباتات کے بارے میں آپ کے پاس معلومات ہوں تو آپ کو ان کا تجزیہ کرنے کے لیے کمپیوٹر درکار ہوتا ہے۔ یہ اعداد شمار ملک کےصرف دس فیصد حصہ سے حاصل کیا گیا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ماہرین نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا ان جانوروں اور نباتات کی کتنی تعداد یا آبادی ہونی چاہیے کہ یہ مستقبل میں محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کمپیوٹر سافٹ ویئر نے اس کا حل نکالنے میں مدد دی کہ ان نباتات اور جانوروں کو مستقل میں محفوظ رہنے کے لیے کتنا رقبہ درکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سافٹ ویئر سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملی کہ کون سی اقسام ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان میں کچھ اقسام ایسی تھیں جو انسانی موجودگی میں پنپ سکتی ہیں اور انہیں بڑھتی ہوئی آبادی سے خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ان میں بہت سی ایسی بھی تھیں جو کےبڑھتی ہوئی آبادی سے شدید خطرے میں ہیں اور وہ ایک خاص ماحول میں ہی زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر اس ماحول کو تحفظ نہ دیا گیا تو یہ بہت جلد ناپید ہو جائیں گی۔ ماضی میں جنگلی حیات کو تحفظ دینے کے لیے مختلف طریقہ اپنائے گئے اور بہت سے ایسے خطوں کو کسی ایک خاص نوع کو بچانے کے لیے محفوظ قرار دیا گیا۔ پروفیسر کریمن نے کہا کہ کسی ایک خاص نوع کو بچانے کے لیے کسی ایک خطے کو محفوظ قرار دیتے ہیں لیکن اس کی چھتری تلے بہت سی دوسری اقسام کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ماحولیاتی تحفظ کے معیار سخت13 March, 2008 | نیٹ سائنس نر ڈولفن: محبت اور دشمنی کا نرالا انداز26 March, 2008 | نیٹ سائنس بڑھتی ہوئی حرارت کا کیا ہوگا؟07 April, 2008 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||