BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 April, 2008, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بڑھتی ہوئی حرارت کا کیا ہوگا؟

سال دو ہزار تین میں فرانس میں نصف صدی کا شدید ترین موسمِ گرما ریکارڈ کیا گیا اور اس میں چھپن افراد ہلاک ہوگئے۔
سال دو ہزار تین میں فرانس میں نصف صدی کا شدید ترین موسمِ گرما ریکارڈ کیا گیا اور اس میں چھپن افراد ہلاک ہوگئے۔
سائنس نے اپنا یہ فیصلہ سنادیا ہے کہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے دنیا بھر میں ماحول کو اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ نتیجاً کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

اس کے باعث موسمی تغیرات اب معمول بنتے جارہے ہیں۔ گویا نظامِ فطرت میں حضرت انسان کی کارستانیوں کے باعث موسموں نے بےچینی سے کروٹیں بدلنی شروع کردی ہیں۔ کبھی بارشیں رستہ بھول گئیں تو خشک سالی نے آلیا۔ اور دسیوں زندگیوں کا خون چوس لیا۔ انسان اور مویشی بوند بوند کو ترس گئے۔ کہیں طوفانوں نے زور پکڑا تو کہیں بادل اتنا ٹوٹ کر برسا کہ سیلاب بن کر انسانوں اور جانووں کو تنکوں کی طرح بہا لے گیا۔

خشک سالی اور بدترین سیلاب کا نشانہ پاکستان کا ایک پس ماندہ صوبہ بلوچستان بنا تو کتنی ہی جانوں کا نذرانہ لیکر ٹلا۔

وہی موسم جو کائنات کا حسن تھے انسانوں کے لیے موت کا پیغام بنتے جارہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں آنے والی موسمیاتی شدتوں کو روکنا تو شائد آئندہ چند برسوں تک ممکن نہ ہوسکے تاہم بروقت حکمتِ عملی سے حیاتِ انسانی پر ان تغیرات کے مضر اور جاں لیوا اثرات کو اگر مکمل طور پر ختم نہیں تو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او نے اسی معاملے پر توجہ دلانے کے لیے سات اپریل کو عالمی یومِ صحت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے صحت پر پڑنے والے اثرات سے آگاہی اور تدارک کا دن قرار دیا ہے۔

جنوبی ایشیائی ملکوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے صحت پر اثرات کی نوعیت گونا گوں ہے۔ مثال کے طور پر شدید گرم موسم کیڑے مکوڑوں اور مچھروں کی پیدائش و افزائش کے لیے موافق ہوتا ہے۔ اسی لیے اس موسم میں وبائی امراض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماحولیات کی آلودگی سے موسم گرما طویل اور سخت ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان میں ماحولیات کے سابق وفاقی وزیر ملک عظیم اسلم نے بتایا کہ موسم گرما کے طویل ہوجانے سے ملیریا کے وبائی شکل اختیار کرنے کے امکانات بھی بڑھ گئے۔ درجہ حرارت بڑھنے یا حد درجہ کم ہونے سے اور بھی بہت سے حشرات الارض ظاہر ہونے لگے ہیں ۔

دنیا بھر میں شدید گرمی اور خشک سالی سے انسانوں اور مویشیوں کی زندگی کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔
دنیا بھر میں شدید گرمی اور خشک سالی سے انسانوں اور مویشیوں کی زندگی کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری ادارے سے وابستہ ماحولیات کے ایک ماہر ڈاکٹر پرویز نعیم کہتے ہیں کہ ایسے حشرات الارض کے اثرات کا ابھی مکمل طور پر علم تو نہیں ہے تاہم ان کا کسی وباء، کسی بخار یا کسی جسمانی الرجی سے تعلق ہونا بعید از قیاس نہیں۔ مثال کے طور پر ڈینگو بخار کے وبائی شکل اختیار کرنے کی وجوہات سامنے نہیں آئیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں کیوں وقوع پذیر ہو رہی ہیں، اس کا ادراک تو بہت پہلے ہوچکا مگر انسانی صحت پر اس کے اثرات سے نمٹے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جیسے اقدامات کی ضرورت ہے انہیں ابھی پوری سنجیدگی سے نہیں لیاگیا اور بات زبانی کلامی وعدوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ خصوصاً امریکہ جو ماحولیاتی آلودگی کا بہت حد تک ذمہ دار ہے، ابھی اس کے کوئی واضح حکمت عملی نہیں بنا سکا۔ اگرچہ ترقی یافتہ یورپی ملکوں میں اس پر کچھ تھوڑا بہت کام ہورہا ہے مگر جنوبی ایشا کے ترقی پذیر ممالک جیسے کہ پاکستان ابھی ایسی کسی سوچ سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔

ترقی پذیر ملکوں میں عمومی طور پر تحفظ ماحولیات کی موثر پالیسی ترتیب نہ دینے پر یہ جواز دیا جاتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی بچانے کے لیے مطلوبہ اقدامات ان ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ ہونگے اور یہ کہ زہریلی گیسوں کا حد سے زیادہ اخراج دراصل ترقی یافتہ ملکوں کا پیدا کردہ مسئلہ ہے۔

پاکستان میں ماحولیات کے سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم نے اسی موقف کی ترجمانی کی اور کہا کہ فضائی آلودگی وہ تحفہ ہے جو امیر ملکوں نے غریب ملکوں کے لیے پیدا کیا اور اب ہمیں ان کی غیر ذمہ دارانہ ترقی کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

موسمیاتی تغیرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔ مثال کے طور پر سال دو ہزار چار میں وسطی یورپ کے ملکوں میں موسم گرمانے وہ شدت اختیار کی کہ اس کی حدت برداشت سے باہر ہوگئی۔ یوں یہ موسم چار ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ سمیٹ کر رخصت تو ہوگیا مگر یورپی حکومتوں میں تشویش کی یہ لہر دوڑا گیا کہ فطرت میں خلل اندازی کی قیمت جانوں میں ادا کرنے کا موسم نہ صرف یہ کہ آیا ہی چاہتا ہے بلکہ آچکا ہے۔

دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تحفظ ماحولیات سے وابستہ ایک ماہر ملاپ چن شرما کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کے پاس تو وسائل بھی ہیں اور سوچ بھی موجود ہے، وہ تو کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے مگر ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے ملکوں کے لیے تدارک کے اقدامات بھی محال ہیں۔

اس میں تو شک نہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ترقی پذیر ملکوں کو مالی اور تیکنیکی امداد فراہم کرنی ہی چاہیے اور اس کی ابتداء ہو چکی ہے۔ مثلاً کئی ملکوں میں زیادہ سے زیادہ جنگلات اگانے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ مالی اور تیکنیکی امداد دی جارہی ہے تاکہ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کی جاسکے۔

سپین میں خشک سالی کا ایک منظر
سپین میں خشک سالی کا ایک منظر

تاہم ترقی پذیر ملکوں کو یہ جنگ خود بھی لڑنی ہوگی کیونکہ یہ ان کے عوام کی صحت اور زندگیوں کا معاملہ ہے۔ چنانچہ ذمہ داری منتقل کرنے کے بجائے موسمی تغیرات کے اثرات سے انسانی صحت کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاری کی ضرورت تو ہے ہی مزید فضائی کثافت کو روکنے کے لیے
کے لیے کوششیں بھی ضروری ہیں۔

جہاں ملک امین اسلم کے مطابق پاکستان میں اس سلسلے میں جو کام ہوا ہے وہ اقدامات کی صورت میں ابھی پالیسی کا حصہ نہیں بنا اور فی الحال کاغذوں تک محیط ہے وہاں ہندوستان میں اس سوچ کی جھلک پالیسی میں بھی نظر آتی ہے۔ فضاؤں کو مضر صحت گیسوں سے بچانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سبز ایندھن پر انحصار کیا جائے یعنی ایندھن کے ایسے ذرائع تلاش کیے جائیں جن سے ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ ہندوستان میں اس سمت میں کام کا آغاز ہوچکا اور وہاں پانی و بجلی تیار کرنے کی جانب خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

ملاپ چن شرما کے خیال میں اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ہندوستان کے ماحول کے لیے بہت تباہ کن ہوگا۔
تاہم کوئی بھی پالیسی یا حکمت عملی صرف اسی صورت میں موثر ثابت ہوسکیں گے۔ جب ا س سلسلے میں عوا م میں شعور بیدار کیا جائے۔ اور اس میں میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کی بہت اہم کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر پرویز نعیم کو شکایت ہے کہ پاکستان میں میڈیا سیاسی حالات میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اس قسم کے حساس ایشو سامنے نہیں آرہے۔جو وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
عالمی یوم صحت پر موسمیاتی تغیرات کے انسانی صحت پر اثرات کی جانب توجہ مبذول کرانے کا مقصد ملکوں کو یہ باور کرانا ہے۔ کہ اگر اب بھی کوئی تدبیر نہ کی گئی تو انسان کی آئیندہ نسلوں کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد