BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 December, 2007, 00:30 GMT 05:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھونرے ڈائنو سارز کے’ساتھی‘
بھونرا
دنیا میں ہر چوتھا جاندار ایک بھونرا ہے
ایک تحقیق کے مطابق موجودہ زمانے میں پائے جانے والے بھونروں کی اقسام میں سے کچھ اس زمانے میں بھی موجود تھیں جب کرہِ ارض پر ڈائنوسار پائے جاتے تھے۔

پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بھونرے زمین پر پھول دار پودوں کے ساتھ قریباً ایک سو چالیس ملین سال پہلے نمودار ہوئے تھے۔تاہم اب سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھونروں کی سو سے زائد اقسام زمین پر پھول دار پودوں کے پیدا ہونے سے قبل موجود تھیں۔

اس رپورٹ کے مطابق بھونرے زمین پر ایک سو چالیس ملین سال سے نہیں بلکہ ڈھائی سو ملین سال سے موجود ہیں اور یہ وہ زمانہ تھا جب ڈائنوسار بھی زمین پر موجود تھے۔

رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے رکن اور امپیریئل کالج لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جوہانس برجسٹن کا کہنا ہے کہ’ہمیں پانچ ایسے خاندانوں کا پتہ چلا جن کی نسل ڈھائی سو ملین برس پہلے سے چلی آ رہی ہے‘۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف پروفیسر والگر کا کہنا ہے کہ ’ناپید ہو جانے والے ڈائنوسارز کے برعکس بھونرے اپنے ماحولیاتی تنوع اور کسی بھی قسم کے حالات مسے مطابقت رکھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ختم ہونے سے بچے رہے‘۔

زمین پر بھونروں کی تین لاکھ سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں جو کہ تمام جانداروں کا قریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔ بھونروں کی اتنی بڑی تعداد میں اقسام کے حوالے سے کئی برس سے بحث جاری ہے اور تاحال اس کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی ہے۔

اسی بارے میں
فٹبال گراؤنڈ جتنا مکڑی کا جالا
01 September, 2007 | نیٹ سائنس
کیڑوں جیسی مصنوعی آنکھ
28 April, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد