بھونرے ڈائنو سارز کے’ساتھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیق کے مطابق موجودہ زمانے میں پائے جانے والے بھونروں کی اقسام میں سے کچھ اس زمانے میں بھی موجود تھیں جب کرہِ ارض پر ڈائنوسار پائے جاتے تھے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بھونرے زمین پر پھول دار پودوں کے ساتھ قریباً ایک سو چالیس ملین سال پہلے نمودار ہوئے تھے۔تاہم اب سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھونروں کی سو سے زائد اقسام زمین پر پھول دار پودوں کے پیدا ہونے سے قبل موجود تھیں۔ اس رپورٹ کے مطابق بھونرے زمین پر ایک سو چالیس ملین سال سے نہیں بلکہ ڈھائی سو ملین سال سے موجود ہیں اور یہ وہ زمانہ تھا جب ڈائنوسار بھی زمین پر موجود تھے۔ رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے رکن اور امپیریئل کالج لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جوہانس برجسٹن کا کہنا ہے کہ’ہمیں پانچ ایسے خاندانوں کا پتہ چلا جن کی نسل ڈھائی سو ملین برس پہلے سے چلی آ رہی ہے‘۔ رپورٹ کے مرکزی مصنف پروفیسر والگر کا کہنا ہے کہ ’ناپید ہو جانے والے ڈائنوسارز کے برعکس بھونرے اپنے ماحولیاتی تنوع اور کسی بھی قسم کے حالات مسے مطابقت رکھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ختم ہونے سے بچے رہے‘۔ زمین پر بھونروں کی تین لاکھ سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں جو کہ تمام جانداروں کا قریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔ بھونروں کی اتنی بڑی تعداد میں اقسام کے حوالے سے کئی برس سے بحث جاری ہے اور تاحال اس کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی ہے۔ | اسی بارے میں فٹبال گراؤنڈ جتنا مکڑی کا جالا01 September, 2007 | نیٹ سائنس کیڑوں جیسی مصنوعی آنکھ28 April, 2006 | نیٹ سائنس ملبورن میں چونٹیوں کی سپر کالونی16 August, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||