ملبورن میں چونٹیوں کی سپر کالونی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے شہر میلبورن کے قریب دنیا میں چیونٹیوں کی سب سے بڑی بستی دریافت ہوئی ہے جو کہ ایک سو کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور مقامی کیڑوں اور باقی حشرات الارض کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ یہ چیونٹیاں جو ارجنٹائن سے لائی گئی تھیں حیوانوں کے سو بدترین دشمنوں میں شمار ہوتی ہیں۔ گو کہ یہ چیونٹیاں اپنی معمول کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے گروہوں میں رہتی ہیں لیکن آسٹریلیا میں ان بہت سے چھوٹے چھوٹے گروہوں نے ایک بہت بڑی آبادی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چیونٹیوں کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی نے علاقے میں نباتات اور حشرات کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ میلبورن میں واقع موناش یونیورسٹی کے ایک ماہر نے کہا کہ آسٹریلیا میں مختلف نوع کی چیونٹیاں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرح کی چیونٹیوں کی اتنی بڑی کالونی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجنٹائن میں مختلف نوع کی چیونٹیاں موجود ہیں اور وہ ایک دوسرے کی طرف نہایت جارحانہ رویہ رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں ایک توازن برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو انتالیس میں جب ان چیونٹیوں کو آسٹریلیا لایا گیا تو ان کے رویے میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور انہوں نے ایک دوسرے پر حملہ کرنا چھوڑ دیا یوں ان کی آبادی بڑھتی گئی اور ایک ’سپر کالونی‘ کی صورت اختیار کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ رجنٹائن سے لائی گئی چیونٹیوں نے مقامی چیونٹیوں کو ختم کردیا اور اب باقی حشرات اور نباتات کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔ آسٹریلیا واحد ملک نہیں جہاں ارجنٹائن کی چیونٹیوں نے مقامی حشرات کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہو۔ امریکہ کے ریاست کیلوفورنیا میں بھی انہوں نے مقامی چیونٹیوں کو ختم کر دیا ہے اور ان کی وجہ سے باقی حشرات کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||