قیامت کے بعد کے لیے بیج محفوظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انجنیئروں نےآفات سے زمین پرممکنہ تباہی کے بعد زمین پر دوبارہ فصلیں اگانے کے لیے بیجوں کو محفوظ کرنے کے لیے ایک ایسا کمرہ بنانا شروع کر دیا جس میں ایک ہزار سال تک بیجوں کو محفوظ رکھا جا سکےگا۔ انجنیئروں نے ناروے سے ایک ہزار کلومیٹر دور اور قطب شمالی ایک پہاڑ کےاندر ایسا کمرہ بنانا شروع کر دیا ہے جہاں زمین پر اگنے والی فصلوں کے بیجوں کومحفوظ کیا جائے گا۔ بیجوں کو محفوظ کرنے کا عمل اس خدشے کے پیش نظر کیا جا رہا ہے کہ اگر زمین پر ایٹمی اسلحہ چلنے یا شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں زمین پر تمام فصلیں مکمل پر تباہ ہو جائیں تو پھر ان بیجوں کے ذریعے دوبارہ فصلیں اگائی جا سکیں گی۔ ’سولبارڈ گلوبل سیڈ والٹ‘ کے نام سے بنائے جانے والے کمرے میں چار اعشاریہ پانچ ملین بیجوں کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ کیے جانے والے بیج ایک ہزار سال تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بیجوں کو محفوظ کرنے والے کمرے جزیرہ سلوابارڈ کے ایک پہاڑ کے اندر 364 فٹ اندر بنایا جا رہا ہے۔ کسی ناگہانی آفت سے زمین پر مکمل تباہی کی صورت میں بیجوں کے اس بڑے ذخیرے کو استعمال کر کے دوبارہ تمام فصلیں اگائی جا سکیں گی۔ | اسی بارے میں ہوائی سفر سے ماحولیاتی تباہی04 July, 2004 | نیٹ سائنس جنگلات کی تباہی، شدید قحط کاخطرہ16 April, 2006 | نیٹ سائنس آرکٹک میں کامیاب تجرباتی مہم 09 November, 2007 | نیٹ سائنس قطبی برف: پگھلاؤ کے غلط اندازے01 May, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||