آرکٹک میں کامیاب تجرباتی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برفانی علاقہ آرکٹک کا ماحول جاننے کے لیے ایک مہم جس کا مقصد خاص آلات کو ٹیسٹ کرنا تھا اطلاعات کے مطابق کامیاب رہی ہے۔ اب سنہ دو ہزار آٹھ میں محقق پین حاڈو اپنے ساتھ ایک ریڈار کو کھنچتے ہوئے قطب شمالی تک کا دو ہزار کلومیٹر کا سفر کریں گے تاکہ اس برفانی علاقے کی سکڑتی ہوئی برف کے اُوپری سطح کا اندازہ لگا سکیں۔ اس سے پہلے سائنسی محققین کی ایک ٹیم شمالی کینیڈا کے علاقہ یوریکہ کے طرف روانہ ہوئی تھی جس کا کام تھا کہ وہ آلات کو جانچے کہ آیا یہ آرکٹک کے سخت حالات میں کام کر سکیں گے یا نہیں۔ ٹیم کے مطابق اس ریڈار نے، جس کو ’سپیرٹ‘ کا نام دیا گیا ہے، بہت مخصوص طریقے سے برف کےمنفی پینتیس ڈگری سنٹی گریڈ تک کی ریڈنگ لی اور اس پر لگے ہوے اطلاعی آلہ نے تمام معلومات تصاویر اور ویڈیو کے ذریعے فراہم کیں۔ یہ معلومات اپنی نوعیت کی پہلی ایسی معلومات تھیں جو اتنے شمالی علاقہ سے اس قدر جلد بھیجی گئیں۔ اب ’وانک آرکٹک سروے‘ فروری میں شروع ہوگا جب پین حاڈو اور ان کے ساتھی سو دن تک امریکہ کی سٹیٹ الاسکا کے پونٹ بارو سے لے کر نارتھ پول تک کا سفر کریں گے۔ | اسی بارے میں قطبِ جنوبی تک انٹرنیٹ21.08.2002 | صفحۂ اول برف کی ٹوٹتی خموشی06.01.2003 | صفحۂ اول ’قطب شمالی پر تیل کی دوڑ‘23 August, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||