BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 October, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زندگی کی تخلیق تجربہ گاہ میں
جینز
خبرگرم ہے کہ ایک امریکی بزنس مین کریگ وینٹر کی ٹیم تجربہ گاہ میں زندگی کی حالت تخلیق کرنے کے قریب ہے۔

کریگ وینٹر انسٹیٹیوٹ کے سائنسدان ایک ’مینِمل جنوم‘( کسی چیز کے زندہ رہنے کے لیے جینز کا چھوٹا ترین گروپ) بنانے کے قریب ہیں۔ اس جنوم کو پھر ایک خالی خلیے میں منتقل کر دیا جائے گا۔

جنوم کی یہ چھوٹی قسم ایک عام بیکٹریم ’مائیکوپلازما جینٹیلیم‘ کی مدد سے حاصل کی گئی ہے۔ اس بیکٹیریم کے جینز کو ایک ایک کر کے رد کیا گیا جب تک صرف اس کی بقاء کے لیے ضروری جینیاتی مواد بچ گیا۔

بعض ماہرین کے مطابق ڈاکٹر وینٹر کا مصنوعی زندگی کی تخیلق کا عمل دراصل ایک زندہ چیز سے نئی چیز بنانے کے مترادف ہے۔ امریکی درسگاہ ایم آئی ٹی کے پروفیسر ڈریو اینڈی کے مطابق وینٹر بالکل ابتدا سے زندگی تخلیق نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک جنوم بنا رہے ہیں جو کہ کم و بیش ایک موجودہ جنوم کی نقل ہے اور پھر اس نئے جنوم کو خلیے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وینٹر کا منصوبہ غیر معمولی طور پر اہم ہے‘۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر وینٹر مصنوعی زندگی کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ ڈاکٹر وینٹراس کی مدد سے گرین ہاؤس گیسوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر وینٹر توقع کرتے ہیں کہ اس مصنوعی زندگی سے پلاسٹک بنانے اور بہہ جانے والے تیل کی صفائی کا کام لیا جا سکے گا۔

اسی بارے میں
’مصنوعی نطفے سے زندگی‘
11 July, 2006 | نیٹ سائنس
کھیل حقیقی زندگی پرحاوی
27 April, 2005 | نیٹ سائنس
پیدائش سے پہلے میری زندگی
30 June, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد