زندگی کی تخلیق تجربہ گاہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خبرگرم ہے کہ ایک امریکی بزنس مین کریگ وینٹر کی ٹیم تجربہ گاہ میں زندگی کی حالت تخلیق کرنے کے قریب ہے۔ کریگ وینٹر انسٹیٹیوٹ کے سائنسدان ایک ’مینِمل جنوم‘( کسی چیز کے زندہ رہنے کے لیے جینز کا چھوٹا ترین گروپ) بنانے کے قریب ہیں۔ اس جنوم کو پھر ایک خالی خلیے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ جنوم کی یہ چھوٹی قسم ایک عام بیکٹریم ’مائیکوپلازما جینٹیلیم‘ کی مدد سے حاصل کی گئی ہے۔ اس بیکٹیریم کے جینز کو ایک ایک کر کے رد کیا گیا جب تک صرف اس کی بقاء کے لیے ضروری جینیاتی مواد بچ گیا۔ بعض ماہرین کے مطابق ڈاکٹر وینٹر کا مصنوعی زندگی کی تخیلق کا عمل دراصل ایک زندہ چیز سے نئی چیز بنانے کے مترادف ہے۔ امریکی درسگاہ ایم آئی ٹی کے پروفیسر ڈریو اینڈی کے مطابق وینٹر بالکل ابتدا سے زندگی تخلیق نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک جنوم بنا رہے ہیں جو کہ کم و بیش ایک موجودہ جنوم کی نقل ہے اور پھر اس نئے جنوم کو خلیے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وینٹر کا منصوبہ غیر معمولی طور پر اہم ہے‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر وینٹر مصنوعی زندگی کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ ڈاکٹر وینٹراس کی مدد سے گرین ہاؤس گیسوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر وینٹر توقع کرتے ہیں کہ اس مصنوعی زندگی سے پلاسٹک بنانے اور بہہ جانے والے تیل کی صفائی کا کام لیا جا سکے گا۔ | اسی بارے میں ’مصنوعی نطفے سے زندگی‘11 July, 2006 | نیٹ سائنس بکٹیریا، زندگی کی مدت پر اثرات11 August, 2007 | نیٹ سائنس کھیل حقیقی زندگی پرحاوی27 April, 2005 | نیٹ سائنس پیدائش سے پہلے میری زندگی30 June, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||