’مصنوعی نطفے سے زندگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے پہلی بار ثابت کیا ہے کہ جنیس سے حاصل شدہ سٹیم سیل سے نطفہ حاصل کر کے بچہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس تازہ ترین تحقیق کی تفصیل ڈیویلپمنٹ سیل نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ چوہوں پر تجربے سے حاصل ہونے والی اس معلومات کا فائدہ ان جوڑوں کو ہو گا جو مرد کے بانجھ پن کی وجہ سے بچہ نہیں پیدا کر پا رہے تھے۔ تجربے کے دوران سات چوہے پیدا ہوئے جن میں سے چھ بلوغت تک زندہ رہے۔ تاہم ان چوہوں کو سانس کی تکلیف اور دیگر کچھ مشکلات درپیش رہیں۔ جنین سے حاصل ہونے والے سٹیم سیل سے نطفہ پیدا کرنے میں تحفظ کے علاوہ بہت سے اخلاقی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ سٹیم سیل کی اہمیت یہ ہے کہ انہیں جسم کے کسی بھی ٹیشو کی صورت میں بڑا کیا جا سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنین کے ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے بعد سٹیم سیل کی مدد سے کئی امراض کا علاج بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کی جامعہ نیو کاسل کے پروفیسر کریم اور جرمنی کی ایک جامعہ میں ان کے رفقا نے ایک چوہے کے جنین سے سٹیم سیل حاصل کیئے جو صرف چند روز کا تھا اور ان سیلوں کو ایک تجربہ گاہ میں بڑا کیا۔ خصوصی اوزاروں کی مدد سے وہ کچھ سٹیم سیلوں کو علیحدہ کرنے میں کامیاب رہے جنہوں نےجنین کے طور پر بڑا ہونا شروع کر دیا تھا۔ پروفیسر کریم نے کہا کہ ’انہوں نے پہلی بار مصنوعی نطفے سے زندگی پیدا کی ہے۔ یہ ہمیں مردوں میں نطفوں کی پیداوار کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے گا اور یہ بھی کہ کچھ مردوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اگر یہ سمجھنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم مردوں میں بانجھپن کا علاج کر سکیں گے‘۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہر سات میں سے ایک جوڑے کو بچہ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تقریباً ایک فیصد مرد نطفہ پیدا نہیں کر سکتے جبکہ مزید تین سے چار فیصد مرد کم مقدار میں نطفے پیدا کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’یورپ میں بانجھ پن دوگنا‘21 June, 2005 | نیٹ سائنس متبادل ماں کے ہاں پانچ جڑواں بچے28 April, 2005 | نیٹ سائنس 21 برس کے نطفے سے پیدائش25 May, 2004 | نیٹ سائنس نطفہ جاننے کے حق کی مذمت18 January, 2004 | نیٹ سائنس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||