’جی ایم آر‘ تکنیک پر فزکس نوبل انعام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی سائنسدان البرٹ فرٹ اور جرمن سائنسدان پیٹرگرنبرگ کو طبیعات کے شعبے میں سنہ 2007 کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ ان دونوں سائنسدانوں نے’جائنٹ میگنیٹو ریزسٹنس‘ یا ’جی ایم آر‘ کا انوکھا نظریہ دریافت کیا جس کے تحت کمزور مقناطیسی تبدیلیاں برقی ریزسٹنس میں بڑے فرق کو جنم دیتی ہیں۔ جی ایم ار میں مختلف مقناطیسی اشیاء کی بہی پتلی تہیں استعمال کی جاتی ہیں اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق’ اسے نینو ٹیکنالوجی کے میدان میں پہلی حقیقی اپلیکیشن کہا جا سکتا ہے‘۔ اس دریافت کی وجہ سے ہی ان حساس آلات کی تشکیل ممکن ہوئی جو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیوز، آئی پوڈز اور دیگر ڈیجیٹل آلات میں موجود معلومات پڑھ سکتے ہیں۔یہی وہ دریافت ہے جس کی وجہ سے ہارڈ ڈرائیو کا حجم کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ برطانوی انسٹیٹیوٹ آف فزکس کے جریدے فزکس ورلڈ کے مدیر متین درانی کا کہنا ہے کہ’ یہ ایوارڈ ایک ایسی دریافت پر دیا گیا ہے جس کی بنیاد بہت پریکٹیکل ہے اور اس کا انڈسٹری سے براہِ راست تعلق ہے‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طبیعات کا تعلق صرف مظاہرِ کائنات کو سمجھنے سے نہیں بلکہ عام زندگی سے بھی ہے‘۔ یونیورسٹی آف سرے کے پرفیسر بین مرڈن کے مطابق جی ایم آر کے بغیر ہم اپنے آئی پوڈ پر ایک سے زائد گانے محفوظ کرنے میں ناکام رہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ’جی ایم آر استعمال کرنے والا کمپیوٹر ہارڈ ڈسک ریڈر ایک ایسے جیٹ طیارے جیسا ہے جو تیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے صرف ایک میٹر اوپر پرواز کر رہا ہو اور وہ گھاس کے جس جس تنکے کے اوپر سے گزرے اس کا حساب رکھتا جا رہا ہو‘۔ | اسی بارے میں السر پر تحقیق، طب کا نوبل انعام03 October, 2005 | نیٹ سائنس امریکی سائنسدانوں کو نوبل انعام 08 October, 2003 | نیٹ سائنس ’سونگھنے‘ کا معمہ حل04 October, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||