’سونگھنے‘ کا معمہ حل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں دو سائنسدانوں کو انسانوں کے ’سونگھنے کا راز‘ جاننے پر میڈیسن کا نوبل پرائز دیا گیا ہے۔ انسانی دماغ کے مختلف خوشبوئیں یاد رکھنے کا عمل سائنسدانوں کے لیے بہت عرصے تک راز رہا ہے جسے جاننے کے لیے بہت تحقیق کی گئی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ ایکسل اور کینسر ریسرچ سنٹر کی لنڈا بک نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر یہ نوبل پرائز حاصل کیا ہے۔ یہ نوبل انعام ایک اعشاریہ تین ملین ڈالر مالیت کا ہے۔ ان سائنسدانوں نے ایک خاص طرح کی ’جینز‘ کا گروپ دریافت کیا ہے جو ایک ہزار مختلف جینز پر مشتمل ہے۔ یہ مختلف جینز ایک خاص طرح کا پروٹین پیدا کرتی ہیں جو خوشبوؤں کو سونگھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پروٹین ناک کے اوپر کے حصے میں موجود ہوتے ہیں اور خوشبو کے مالیکیول وصول ہونے پر فوراً انہیں پہچان لیتے ہیں۔ یہ خلیے پھر اعصابی ٹشو کے ذریعے خوشبو کے احساس کے سگنل دماغ تک بھیجتے ہیں۔ ایکسل اور لنڈا نے اپنی تحقیقات 1991 میں ایک جریدے میں جاری کی تھیں۔ پروفیسر سٹین گرلنر کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے پہلے سونگھنے کا عمل سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کی دنیا میں یہ ایک انقلابی دریافت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||