BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 October, 2004, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: حسن و جمال کے نئے طریقے

نئی تیکنیکوں
شعائیں جسم کے اندر داخل ہو کر فاضل مادوں کو جلاتی اور کمزور حصوں کو توانائی دیتی ہیں
انسان کی فطری صلاحیت و قابلیت بیش بہا نعمت ہےلیکن اگر اس میں حسن و جمال کی صفت بھی پائی جائے تو اسکی شخصیت مزید نکھر جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں حسن و خوبصورتی کی زیادہ اہمیت ہے اور لوگ اپنی جسمانی خوبصورتی کے بارے میں زیادہ حساس ہیں۔

زیادہ سے زیادہ سے پر کشش رکھنے کے لیے ورزش، مساج سینٹر، بیوٹی پارلر اور بہت سے حکمتی نسخوں کی مدد لی جاتی ر ہی ہے ۔ تاہم اب جسم کو سڈول رکھنے اور چہرے کی جھریاں مٹانے کے لیے پلاسٹک سرجری و لیزر جیسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا رحجان بھی اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔

لیزر لائٹ اور پلاسٹک سرجری کی ایجاد خطرناک قسم کی بیماریوں کے علاج کے لیےکی جانے والی کوششوں کا نتیجہ تھی لیکن اب اسے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حسن کی افزائش کے لیے مقبول عام ہورہا ہے۔ ہندوستان کے اکثر شہروں میں ’لیزر کاسمیٹک کلینکس‘ کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔

دلی میں لیزر کاسمیٹک میں ماہر ایک ڈاکٹر پریچیئے اپادھیائے کا کہنا ہے کہ چہرے پر غیر ضروری بال، جلد پر داغ، جھریاں اور جلد کے رنگ کی تبدیلی کے لیے تقریبا سبھی عمر کے لوگ ان کے پاس آتے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر تعداد نوجوان خواتین کی ہوتی ہے۔

مسٹر اپادھیائے کے مطابق جلد کی کچھ خصوصی بیماریوں کا علاج لیزر لائٹ سے زیادہ موثر ہوتا ہے اس لیے لوگ اس طرف زیادہ راغب ہورہے ہیں۔

لیزر ٹریٹ مینٹ کرانے والی ایک خاتون پوجا کا کہنا تھا کہ ہربل دواؤں سے مایوسی کے بعد وہ مشین کا سہارا لے رہی ہیں پوجا نے بتایا کہ لیزر لائٹ کے استعمال کے بعد انکے چہرے کی جھریاں اور داغ دورہونے لگے ہیں۔

لیزر کا طریقہ علاج تو جلد کے لیے ہے تاہم پلاسٹک سرجری سے جسم کے نشیب و فراز اور خدوخال کو بھی درست کیا جاتا ہے۔

یعنی آپریشن کے ذریعے جسم کو حسب ضرورت تراشا جا سکتا ہے۔ اپولو اسپتال کے مشہور کاسمیٹک سرجن آر ایس سیتھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بہت سے لوگ جسم کو سڈول بنانے کے لیے پلاسٹک سرجری کراتے ہیں۔

مسٹر سیتھ کے مطابق زیادہ تر لوگ اپنی ناک درست کرواتے ہیں اور اس میں مرد و خواتین دونوں ہی شامل ہیں لیکن خواتین کی ایک بڑی تعداد لائپوسکشن کے لیے آتی ہے یعنی کولہوں ، ران یا جسم کے کسی بھی مخصوص حصے سے موٹاپے کو کم کرنے کے لیے چربی و خون کو مشین کے ذریعے کھینچ لینا۔

ڈاکٹر سیتھ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر خواتین اپنے سینے کے نشیب و فراز کو موجودہ دور کے فیشن کے مطابق رکھنے کے لیے لائپوسکشن کرواتی ہیں۔

ریکھا نامی ایک خاتون نے جو ڈاکٹر سے صلاح و مشورے کے لیے اسپتال آئی تھیں بتایا کہ کی بچے کی پیدائش کے بعد ان کا پیٹ کافی بڑھ گیا تھا اس لیے انہو ں نے پیٹ اور کولہوں کا لآئپوسکشن کروایا تھا۔ریکھا کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد انہیں کافی آرام ملا تھا اور اب وہ دوبارہ وہی آپریشن کروانا چاہتی ہیں کیونکہ دو برس بعد جسم کا کچھ حصہ مزید بڑھ گیا ہے۔

تیزی سے مقبول ہوتے اس نئے طریقے کے بارے میں مشہور بیوٹیشین شہناز حسین کا کہنا ہے کہ لیزر اور پلاسٹک سرجری ایک وقتی علاج ہے اور اس کے بہت سے مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔

شہناز کا کہنا ہے کہ نئی نسل جسم و صورت کے بارے میں سنجیدہ ہے لیکن بہت سے لوگ مایوس ہوکر کلینک کا سہارہ لے رہے ہیں ایسے لوگوں کو مستقبل میں طرح طرح کی بیماریوں کا خطرہ رہتا ہے۔

ہندوستان میں حسن و جمال کے تحفظ و اضافے کے لیے بیوٹی پارلرز، مساج سینٹرز اور ان گنت یونانی دوائیں مقبول رہی ہیں لیکن اب ان کی جگہ لیزر کاسمیٹک کلینک اور پلاسٹک سرجری کے مراکز لیتے جارہے ہیں۔لیکب بازار میں اب بھی گنجائش ہے کیونکہ خوبصورتی اور کشش کے خواب دکھانے والی ہر دکان کے باہر مرد و خواتین قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد