برفانی جزیرہ رودباد میں پھنس گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق ایک دس میل لمبا اور تین میل چوڑا برفانی جزیرہ کینیڈا سے متصل بحیرہ منجمد شمالی کی ایک رودباد میں پھنس گیا ہے۔ آئیلز نامی یہ برفانی جزیرہ دو برس قبل کینیڈا کے ساحل سے علیحدہ ہوا تھا اور اس وقت سے سائنسدان اس آئس برگ کی حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سائنسدان برف کے اس جزیرے کی بقیہ سمندر سے علیحدگی کو آرکٹک میں رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی مثال قرار دیتے ہیں اس برس مئی میں سائنسدان پہلی مرتبہ بذریعہ ہوائی جہاز اس جزیرے پر اترے تھے اور یہاں سائنسی تجربات کیے تھے۔انہیں یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں یہ عظیم الجثہ برفانی تودہ الاسکا کے علاقے میں موجود تیل اور گیس کی تنصیبات کا رخ نہ کر لے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ برفانی جزیرہ سمندر میں مئی سے اب تک تین سو دس کلومیٹر کا سفر طے کر چکا ہے اور ملکہ الزبتھ سے منسوب دو جزائر کے درمیان ایک رودباد میں پھنس چکا ہے۔ اس جزیرے پر جانے والی مہم میں شامل ڈاکٹر لیوک کوپلینڈ کا کہنا ہے کہ اس سال سمندر میں برف کے کم جماؤ کی وجہ سے ہی یہ برفانی جزیرہ اتنی دور تک پہنچے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس تودے سے بحیرۂ بیوفورٹ میں واقع تیل کی تنصیبات کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اب یہ کھلے سمندر میں داخل ہو چکا ہے اور ممکنہ طور پر اب یہ الزبتھ جزائر میں ہی پھنسا رہے گا۔ | اسی بارے میں برفانی تودے اور سمندری حیات22 June, 2007 | نیٹ سائنس قطبی برف: پگھلاؤ کے غلط اندازے01 May, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی اربوں کو خطرہ09 April, 2007 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||