دنیا کو سنکھیا کے ٹائم بم کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محققین کا خیال ہے کے خاص طور پر غیر ترقی یافتہ ملکوں کے ایک سو چالیس ملین لوگ زہریلے پانی کا استعمال کر رہے ہیں۔ رائل جیوگرافک سوسائٹی (آر جی ایس) کے سالانہ اجلاس میں سائنسدانوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے کینسر بڑھنے کے امکان زیادہ ہوجائیں گے۔ یہ مسئلہ سب سے زیادہ جنوبی اور مشرقی ایشیا میں ہے۔ سنکھیا سے متاثرہ زمین میں اگنے والے چاول صحت کے لئے بہت خطرناک ہوسکتے ہیں۔ سنکھیا ملی اشیا استعمال کرنے سے کینسر کی بعض اقسام کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جن میں پھیپھڑے کے ٹیومرز، جلد اور پھیپھڑوں کی مختلف بیماریاں شامل ہیں اور ان کی علامات دس سال کے بعد بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ پیٹر ریونز کروفٹ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ 70 ملکوں میں موجود ہے۔ اگر آپ یورپ اور شمالی امریکہ کے پانی کے معیار کو دیکھیں تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے ایک سو چالیس ملین لوگوں کو حاصل پانی معیار کے مطابق نہیں ہے اور ان کے لئے خطرناک ہے۔ چونکہ نلکے کے پانی کے آلودہ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور اس سے پیٹ کی بیماریاں ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے امدادی ادارے لوگوں کو کنویں کا پانی پینے کی ترغیب دیتے رہے ہیں لیکن اب کنویں کے پانی میں سنکھیا کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
اس کے بعد دوسرے ملک جیسے چین، کمبوڈیا، ویت نام، اور افریقہ کے پانی میں سنکھیا کی ملاوٹ پائی گئی ہے۔ اگر پانی میں سنکھیا موجود ہو تو اس کے کئی حل ہیں جیسے کنویں کو زیادہ گہرا کھودنا یا مضر عناصر سے پاک کرنا۔ آر جی ایس کے سائنسدانوں نے اس اجلاس میں کہا کہ حکومت کو تمام کنوؤں کے پانی کا تجربہ کرنا چاہئے تاکہ مختلف علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے لئے خطرے کی نوعیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ پیٹر ریونزکروفٹ نے کہا کے افریقہ میں سنکھیا کی ملاوٹ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے مگر ابھی تک اتنی معلومات نہیں ہو سکی ہے کہ یہ ثابت ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے مزید تجربات کی اشد ضرورت ہے۔ ایشیائی ملکوں میں پانی پینے کے علاوہ، کاشتکاری میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سنکھیا کا نشانہ بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایبرڈین یونیورسٹی کے اینڈرو میہرگ بتاتے ہیں کہ چاول میں دوسری فصلوں کے برعکس سنکھیا جذب کرنے کی صلاحیت دس گناہ زیادہ ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||