سستا ترین لیپ ٹاپ، پیداوار شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ برس قبل جس ’سو ڈالر فی لیپ ٹاپ‘ کا خیال پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا تھا اس کی باقاعدہ پیداوار جلد ہی شروع ہونے والی ہے۔ دنیا کے سستے ترین لاکھوں لیپ ٹاپ کی باقاعدہ پیداوار کے لیے مختلف ہارڈ وئر بنانے والی کپمنیوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ اس کے پُرزے بنانا شروع کر دیں۔ اس سے قبل سستے ترین لیپ ٹاپ کے منصوبہ کی خالق تنظیم نے کہا تھا کہ پیداوار شروع کرنے کے لیے اسے کم سے کم تیس لاکھ لیپ ٹاپ تیار کرنے کے آرڈر درکار ہیں۔ اب تنظیم کا کہنا ہے کہ ترقی پزیر ممالک کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنائے جانے والے اس لیپ ٹاپ کی پہلی کھیپ اس سال اکتوبر تک بچوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گی۔ ’ایک لیپ ٹاپ فی بچہ‘ (One laptop per Child-OLPC) نامی تنظیم کے سربراہ والٹر بینڈر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ اگرچہ کچھ سوفٹ وئر بنانے کا کام باقی ہے لیکن ہارڈ وئر کی پیداوار شروع ہونا ہمارے لیے ایک بڑا قدم ہے۔‘ تنظیم نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں اب تک کن ممالک سے لیپ ٹاپ تیار کرنے کے آرڈر ملے ہیں۔
’سو ڈالر فی لیپ ٹاپ‘ کے منصوبے کو یہاں تک پہنچانے کے لیے اس خیال کے بانی نکولس نیگروپونٹے کو ایک کٹھن سفر طے کرنا پڑا ہے۔ سنہ دو ہزار دو میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آنے کے بعد سے اس خیال کو کبھی تو بہت زبردست منصوبہ قرار دیا گیااور کبھی اس کا مذاق اڑا گیا۔ مشہور کمپیوٹر کمپنی اینٹل کے چیئرمین کریگ بیرٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے اسے ’سو ڈالر کے مشینی کھلونے‘ کا نام دیا تھا جبکہ مائکروسوفٹ کے بانی بِل گیٹس نے اس کے ڈیزائن، خاص طور پر اس میں ہارڈ ڈرائیو کی غیرموجودگی اور اسکی چھوٹی سکرین، پر تنقید کی تھی۔ دیگر ناقدین کا سوال تھا کہ ان ممالک میں جہاں کی فوری ضرورتیں نکاسی آب، پینے کا صاف پانی اور صحت کے بنیادی مسائل ہیں، ان ممالک میں لیپ ٹاپ کی کیا ضرورت ہے۔ اس قسم کے تمام ناقدین کو پروفیسر نیگروپونٹے کا ہمیشہ ایک ہی جواب تھا اور وہ یہ کہ ’یہ منصوبہ لیپ ٹاپ بنانے کا منصوبہ نہیں بلکہ تعلیم کو عام کرنے کا منصوبہ ہے۔‘ اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی پروفیسر نیگروپونٹے کے خیال کی تائید کی تھی۔ انہوں نے اس لیپ ٹاپ کو ’عالمی اتحاد کی علامت‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بچوں کی تعلیم کے لیے ’نئی راہیں کھولے گا۔‘ اور جوں جوں وقت گزرا حتٰی کہ منصوبے کے کچھ مخالفین کی رائے بھی بدل دی گئی۔ اس ماہ کے اوائل میں انٹیل نے بھی تنظیم کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ انٹیل کے بارے کہا جا رہا تھا کہ وہ سو ڈالرکے لیپ ٹاپ کے مقابلے میں ’کلاس میٹ پی سی‘ یا ’ہم جماعت کمپیوٹر‘ کے نام سے اپنا نیا کپمیوٹر متعارف کرانا چاہتی ہے۔ سو ڈالر کے لیپ ٹاپ میں استعمال کیے جانے والے ہارڈ وئر کی آزمائش نائجیریا اور برازیل میں ہو رہی ہے تاہم جس حکومت نے پہلی کھیپ خریدنے کا آرڈر دیا ہے اس کا نام ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||