ہاکنگ کی انوکھی پرواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکِنگ نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے عدم کشش ثقل والی پرواز میں سفر کیا ہے۔ پروفیسر ہاکنگ ’موٹر نیورون ڈزیز‘ کے مریض ہیں اور وہ عرصے سے مغدوری کی حالت میں ویل چئر تک محدود ہیں۔ اس ’زیرو گریوِیٹی‘ والے طیارے میں ان کو ویل چیر میں سے نکالا گیا اور ان کا جسم بے وزن حالت میں آکر آزاد تھا۔ پروفیسر ہاکنگ تقریباً چار منٹ تک اس بے وزن حالت میں رہے۔ اس خصوصی بوئنگ 727 کے اندر کیمرے لگائے گئے تھے۔ پرواز کے بعد پروفیسر ہاکنگ نے کہا’ یہ کمال کا تجربہ رہا۔ میں تو اور بہت وقت ایسے گزار سکتا ہوں۔‘ پرواز ایک گھنٹے جاری رہی۔ جس میں عدم کشش ثقل کے آٹھ مرحلے ممکن ہو سکے۔ پرواز امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کے فلوریڈا میں قائم کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہوئی۔ امریکی کمپنی ایسے پروازوں کے لیے فی مسافر پونے چار ہزار ڈالر کی رقم لیتی ہے لیکن پروفیسر ہاکنگ کے لیے یہ مفت تھی۔ پینسٹھ سالہ سٹیفن ہاکنگ دور حاضر میں فِزکس (طیعبیات) کے مشہور ترین ماہر ہیں۔ ان کو موٹر نیورون کی بیماری بائیس سال کی عمر میں ہوئی اور اس وقت ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ صرف چند برس اور زندہ رہیں گے۔ پروفیسر ہاکنگ نے کچھ عرصے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’اگر انسان خلا میں نہیں جائے گا تو ہماری نسل کے بچنے لیے کوئی امید نہیں۔‘ نومبر میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میرا اگلا ہدف خلا کی سیر کرنا ہے۔‘ ان کا نام رچرڈ برینسن کی ورجِن گیلیکٹک کمپنی کے خلائی پروازوں کے مسافروں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ پروازیں سنہ دو ہزار نو سے شروع ہونگی۔ | اسی بارے میں ’خلائی سفر سب کے لیے ممکن‘02 October, 2006 | نیٹ سائنس خاتون خلائی سیاح واپس پہنچ گئیں29 September, 2006 | نیٹ سائنس پہلی خاتون خلائی سیاح18 September, 2006 | نیٹ سائنس ایک کروڑ دس لاکھ پاونڈ کا خلائی سفر03 October, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||