BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 April, 2007, 23:12 GMT 04:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماحول دوستی: چینی کمپنی سرفہرست
گرین پیس کی رپورٹ میں کل چودہ کمپنیوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں ’ایپل کمپیوٹرز‘ سب سے نیچے ہے۔ ایپل نے الزامات کی تردید کی ہے۔
چین کی کمپیوٹر بنانے والی کمپنی لینووؤ نے دنیا کی سب سے زیادہ’ایکو - فرینڈلی‘ یا قدرتی ماحول کے لیے کم نقصان دہ الیکٹرونکس کمنپیوں میں اول مقام حاصل کر لیا ہے۔

یہ انکشاف ماحولیات کی کمپنی گرین پیس کی جانب سے تیار کی گئی سہ ماہی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کمپنیوں کا پیداوار کا طریقہ کار ماحول کے لیے سود مند ہے اور کمپنی اپنے ہارڈویر کو ’ری سائیکل‘ یا دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے کیا کرتی ہے۔

اس سے قبل شائع کی گئی رپورٹس ميں لینوؤ کمپنی ’ایکو فرینڈیلی‘ کمپنیوں کی فہرست میں بہت نیچے تھی لیکن 2007 میں اس نے ’نوکیا، سونی، ارکسن، ڈیل اور سیمسنگ‘ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

گرین پیس رینکنگ
  • 1 ۔لینؤو: 8
  • 2۔ نوکیا: 7.3
  • 3۔ سونی/ارکسن: 7
  • 3۔ ڈیل: 7
  • 5۔ سیم سنگ: 6.3
  • 5.موٹورولا: 6.3
  • 7۔ فوجی/سیمنس: 6
  • 8۔ ہیولیٹ - پیکرڈ: 5.6
  • 9۔ ایسر: 5.3
  • 10۔ توشیبہ: 4.3
  • 11۔ سونی: 4
  • 12۔ ایل جی الیکٹرونکس: 3.6
  • 13۔پیناسونک: 3.6
  • 14 ایپّل: 2.7

گرین پیس کی اس نئی رپورٹ میں کل چودہ کمپنیوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں ’ایپل کمپیوٹرز‘ سب سے نیچے ہے۔

گرین پیس نےاس قسم کا جائزہ پہلی بار 2006 میں کیا تھا۔ جائزے کا مقصد اس بات کا پتہ لگانا تھا کہ اگر پروڈکشن کے طریقہ کار میں زہریلے کمیکلز استعمال میں لائے جاتے ہیں تو اس پر نظر رکھی جاتی ہے یا نہیں اور یہ کمپنیاں کس قسم کے ہارڈویر بناتی ہیں۔

اس کے علاوہ جائزہ میں یہ بات بھی پتہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ صارفین جب الیکٹرونکس کا سامان استمعال کرنا بند کردیتے ہیں تو کمپنیاں ان پروڈکٹس کو دوبارہ استعمال میں لانے یا ان کے پرزوں کو دوسری مصنوعات میں استعمال کرنےکے لیے کیا کرتی ہیں۔

گرین پیس کی جانب سے مہم چلانے والی ایزا گروزیوسکہ کا کہنا ہے ’چین میں درآمد کیئے گئے اور گھریلو الیکٹرونکس کی وجہ سے ایک بڑی مقدار میں آئی ویسٹ یا ناکارہ کمپیوٹروں یا ان کے ناقابل استعمال یا خراب پرزوں کا کوڑا ( الیکٹرونک کوڑا) مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اور ایسے ماحول میں چین کی کمپنی کا اول مقام حاصل کرنا کافی خوشی کی خبر ہے کم از کم وہ اپنے ذمے داریوں کوسمجھ رہے ہیں۔‘

حالانکہ اب بھی بعض پروڈکٹس بنانے کے لیے زہریلے مادے کا استمعال کرنے کے لیے لینوؤ نے اپنے کچھ پوانٹس کھوئے ہیں۔

اس فہرست میں اوپر کی پانچ کمپنیوں میں شامل سونی ارکسن نے اپنی فیکٹریوں میں آگ پھیلنے میں مدد کرنے والے پالی وینائل کلورائڈ، برلیم اور پیتھلیٹس جیسے کمیکلز کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

اس فہرست میں آخری مقام حاصل کرنے والی ایپّل کمپیوٹر کپمنی کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم گرین پیس کی ریٹنگ اور اس کے جائزے کے معیار سے اتقاق نہیں رکھتے ہیں۔‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی کپمنی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ آگے رہی ہے اور مرکری ، کیڈمیم اور ہیگژاولنٹ کرومیم جیسے کمیکلز کے استمعال پر پابندی لگا چکی ہے۔

اسی بارے میں
ٹی وی ریموٹ کے موجد چل بسے
17 February, 2007 | نیٹ سائنس
برقی آلات کی بڑھتی ہوئی لت
03 March, 2007 | نیٹ سائنس
بجلی سے ڈیجیٹل ٹی وی کے سگنل
17 March, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد