اسقاطِ حمل سے اموات میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترقی پذیر ملکوں میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل سے ہر سال تقریبًا 68000 خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ لینسیٹ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق اسقاطِ حمل کے بعد کم از کم پانچ لاکھ خواتین ایسی ہیں جو کہ انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال جاتی ہیں۔ نیو یارک کے گتمیچر انسٹیٹیوٹ نے یہ اعدادوشمار تیرہ مختلف ملکوں سے مواد اکھٹا کرنے کے بعد جاری کیے ہیں۔ جن ملکوں سے ان محققین نے تحقیقاتی مواد اکھٹا کیا ہے ان میں مصر، نائجیریا، یوگینڈا، بنگلہ دیش، پاکستان، فلاپائن، برازیل، چلی، کولمبیہ، ڈومیکن ریپبلک، گواٹےمالا ، میکسکو اور پیرو شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گھانا، برکینہ، کینیا، اور جنوبی افریقہ سے بھی کچھ مواد لیا گیا۔ یوگینڈا میں اسقاطِ حمل کروانے والی خواتین میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ہسپتال میں داخلے کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔اس ملک میں ہر ایک ہزار خواتین میں سےسولہ عشاریہ چار خواتین ہسپتال میں داخل ہوتی ہیں۔ جبکہ یہ تعداد بنگلہ دیش میں سب سے کم ہے جہاں ایک ہزار میں سے دو عشاریہ آٹھ خواتین کو اسقاط حمل کے بعد دوبارہ کسی پیچیدگی کے باعث ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ نوے لاکھ غیر محفوظ اسقاطِ حمل کیے جاتے ہیں۔ محققین کا، جنھیں ہیولیٹ فاؤنڈیشن امداد فراہم کر رہی ہے، کہنا ہے کہ اگر ترقی یافتہ ملکوں کا موازنہ غیر ترقی یافتہ ملکوں سے کیا جائے تو وہاں کی خواتین میں اسقاط حمل کے بعد ہسپتال جانے کا رجحان یا پھر مختلف پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں اوسطًا ہر سال ایک ہزار میں سے پانچ عشاریہ سات خواتین اسقاطِ حمل کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال جاتی ہیں۔ یہ ریسرچ ڈاکٹر سوشیلا سنگھ کی سرکردگی میں کی گئی اور ان کا کہنا ہے کہ ’غیر محفوظ اسقاط حمل کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اسقاطِ حمل سے پیدا ہونے والی پیچدگیوں اور اموات سے خواتین کو بچانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اسقاطِ حمل کو محفوظ بنانے کے ساتھ اسے قانونی قرار دیا جائے۔‘ | اسی بارے میں ایران: اسقاطِ حمل کا بل منظور12 April, 2005 | آس پاس امریکی ریاست: اسقاطِ حمل ممنوع 07 March, 2006 | آس پاس فیملی پلاننگ مہم، علماء کی شرکت19 September, 2005 | پاکستان جنین سے متعلق متنازعہ قانون26 March, 2004 | نیٹ سائنس لڑکیاں غائب، لڑکوں کی بہتات05.02.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||