BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 November, 2006, 18:08 GMT 23:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسقاطِ حمل سے اموات میں اضافہ
اسقاطِ حمل کے لیے ترقی پزیر ملکوں میں اکثر غیر مخفوظ آلات استعمال کیے جاتے ہیں
ترقی پذیر ملکوں میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل سے ہر سال تقریبًا 68000 خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

لینسیٹ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق اسقاطِ حمل کے بعد کم از کم پانچ لاکھ خواتین ایسی ہیں جو کہ انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال جاتی ہیں۔

نیو یارک کے گتمیچر انسٹیٹیوٹ نے یہ اعدادوشمار تیرہ مختلف ملکوں سے مواد اکھٹا کرنے کے بعد جاری کیے ہیں۔

جن ملکوں سے ان محققین نے تحقیقاتی مواد اکھٹا کیا ہے ان میں مصر، نائجیریا، یوگینڈا، بنگلہ دیش، پاکستان، فلاپائن، برازیل، چلی، کولمبیہ، ڈومیکن ریپبلک، گواٹےمالا ، میکسکو اور پیرو شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گھانا، برکینہ، کینیا، اور جنوبی افریقہ سے بھی کچھ مواد لیا گیا۔

یوگینڈا میں اسقاطِ حمل کروانے والی خواتین میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ہسپتال میں داخلے کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔اس ملک میں ہر ایک ہزار خواتین میں سےسولہ عشاریہ چار خواتین ہسپتال میں داخل ہوتی ہیں۔ جبکہ یہ تعداد بنگلہ دیش میں سب سے کم ہے جہاں ایک ہزار میں سے دو عشاریہ آٹھ خواتین کو اسقاط حمل کے بعد دوبارہ کسی پیچیدگی کے باعث ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ نوے لاکھ غیر محفوظ اسقاطِ حمل کیے جاتے ہیں۔

 ’اسقاطِ حمل سے پیدا ہونے والی پیچدگیوں اور اموات سے خواتین کو بچانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اسقاطِ حمل کو محفوظ بنانے کے ساتھ اسے قانونی قرار دیا جائے
ڈاکٹر سوشیلا سنگھ

محققین کا، جنھیں ہیولیٹ فاؤنڈیشن امداد فراہم کر رہی ہے، کہنا ہے کہ اگر ترقی یافتہ ملکوں کا موازنہ غیر ترقی یافتہ ملکوں سے کیا جائے تو وہاں کی خواتین میں اسقاط حمل کے بعد ہسپتال جانے کا رجحان یا پھر مختلف پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

ترقی پذیر ملکوں میں اوسطًا ہر سال ایک ہزار میں سے پانچ عشاریہ سات خواتین اسقاطِ حمل کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال جاتی ہیں۔

یہ ریسرچ ڈاکٹر سوشیلا سنگھ کی سرکردگی میں کی گئی اور ان کا کہنا ہے کہ ’غیر محفوظ اسقاط حمل کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اسقاطِ حمل سے پیدا ہونے والی پیچدگیوں اور اموات سے خواتین کو بچانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اسقاطِ حمل کو محفوظ بنانے کے ساتھ اسے قانونی قرار دیا جائے۔‘

اسی بارے میں
جنین سے متعلق متنازعہ قانون
26 March, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد