BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپر جمبو جیٹ کی پہلی مسافر پرواز
سپر جمبو
طیارے نے پہلی تجرباتی پرواز کا آغاز تلوس کے ہوائی اڈے سے کیا
دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیارے ایئر بس ’اے 380‘ نے، جسے سپر جمبو بھی کہا جا رہا، مسافروں سمیت جنوبی فرانس سے اپنی پہلی تجرباتی اڑان لے لی ہے۔

مسافروں کے طور پر عملے کے چار سو چوہتر افراد جہاز کی فرسٹ ، بزنس اور اکانومی کلاس میں بیٹھ کر نئے سپر جمبو کے ٹی وی سے لیکر بیت الخلاء تک ہر چیز کا معائنہ کریں گے۔

پیر کے روز اڑنے والی اس پہلی پرواز کے بعد رواں ہفتے میں ایسی ہی تین مزید تجرباتی پروازیں بھی ہوں گی جن کا مقصد پرواز کے دوران طیارے کی تمام سہولیات کا جائزہ لینا ہے۔

طیارے کی پہلی کھیپ اس سال دسمبر میں سنگاپور ایئر لائینز کے حوالے کی جائے گی یوں یہ جہاز مقررہ تاریخ سے چھ ماہ بعد مہیا کیئے جائیں گے۔

اب تک دنیا کی سولہ فضائی کمپنیوں نے کُل ایک سو انسٹھ سپر جمبو کے آرڈر دے رکھے ہیں۔

اس ہفتے کی تجرباتی پروازوں کے لیئے ائیر بس نے اپنے ایک ہزار نو سو ملازمین کا انتخاب کیا ہے۔ ان افراد کے نام قرعہ اندازی کے ذریعے دنیا بھر سے ایئربس کے ان پندرہ ہزار ملازمین میں سے چُنے گئے ہیں جنہوں نے تجرباتی پروازوں میں سفر کرنے کے لیئے درخواستیں دی تھیں۔ ایئر بس کے ملازمین کی کل تعداد ستاون ہزار ہے۔

تجرباتی پروازیں اڑانے والے پائلٹوں کے سربراہ جیکوس روزے نے اس موقع پر کہا:’ مسافروں سے بھری یہ چار تجرباتی پروازیں ہمیں اس بات سے آگاہ کریں گی کہ مسافر اس نئے جہاز میں بیٹھ کر کیا محسوس کریں گے۔‘ جیکوس روزے نے مزید بتایا کہ یہ طیارہ پندرہ ہزار کلومیٹر طویل پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فضائی کمپنیوں کو طیاروں کی ترسیل میں چھ ماہ کی تاخیر کی وجہ طیارے میں بچھائے جانے والے تاروں کے جال میں ایک نقص تھا جس کی پہلی مرتبہ نشاندہی اس سال جون میں ہوئی تھی۔

اس تاخیر کی وجہ سے کمپنی کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے اس وقت کے سربراہ گسٹو ہمبرٹ کو مستعفی بھی ہونا پڑا۔

اس طیارے میں مسافروں کی نشتیں دو منزلوں پر پھیلی ہوئی ہیں

ان کے بعد ’ای اے ڈی ایس‘ نامی کمپنی، جس کا ایئر بس ایک حصہ ہے، کے سربراہ کو بھی استعفیٰ دینا پڑ گیا تھا۔ وہ اس وقت کمپنی سے کنارہ کش ہوئے جب ان پر الزام لگا کہ انہوں نے سپر جمبو کی تیاری کی خبر عام کرنے سے پہلے دانستہ طور پر ای اے ڈی ایس کے حصص فروخت کر دیے تھے۔ وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ایئر بس کو طیاروں کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے فضائی کمپنیوں کی طرف سے ممکنہ ہرجانے کا بھی سامنا ہے۔
اسی بارے میں
سپر جمبو کی پہلی اڑان
27 April, 2005 | آس پاس
سپیس شپ ون مسافر طیارہ بنے گا
07 October, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد