سپیس شپ ون مسافر طیارہ بنے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں سب سے بلند پرواز کرنے والے جہاز سپیس شپ ون کے ڈیزائنر برٹ روٹن نے کہا ہے کہ وہ اپنے جہاز کو تجربات کے لیے نہیں دیں گا بلکہ ان کی خواہش ہو گی کہ اس جہاز کو مسافر طیارے میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا سپیس شپ ون کی کامیاب پرواز کے بعد دنیا بھر سے اس جہاز میں دلچسپی لی جا رہی ہے اور امریکہ سمیت کئی ملکوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اس جہاز کو تجربات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ برٹ روٹن نے کہا انہوں امریکہ سمیت سب ملکوں کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ سپیس شپ ون کو لوگوں کو استعمال میں لایا جائے۔ اور اس کو مسافر طیاروں میں تبدیل کیا جا سکے۔ برٹ روٹن نے کہا ہے کہ اس کی ٹیم کی پوری کوشش ہو گی کہ سپیس شپ ون کو کمرشل طیارے کے طور پر استعمال ہو سکے ۔ ورجن ایٹلانٹک ایئرویز کے چیرمین رچرڈ برینسن نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی ذیلی مدار میں پرواز شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور ایک مسافر سے دو لاکھ پونڈ کے عوض اسے ذیلی مدار میں سیر کرائی جائے گی۔ سپیس شپ ون نے خلاء کی جانب سفر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے زمین سے سو کلومیٹر کی بلندی تک کا کامیاب سفر کرلیا ہے۔ ’سپیس شپ ون‘ نامی اس جہاز کو دس ملین ڈالر کا انعام جیت چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیاب تجربے کو وہ خلا میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||