گوگل کا آن لائن نظام ِادائیگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرچ انجن کمپنی گوگل اشیاء کی خریدوفروخت کی مشہور ویب سائٹ ای بے کے مقابلے کے لیئے ایک آن لائن ادائیگی کا نظام سامنے لا رہا ہے۔ ممکنہ طور پر گوگل چیک آؤٹ نامی یہ نظام گوگل کی آمدنی کے مرکزی منبع یعنی اشتہارات کی فروخت میں اضافے کے لیئے بنایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت گوگل کے کروڑوں اشتہار دہندگان کو مفت ’ آرڈر پروسیسنگ‘ کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی۔ تاہم ابتداء میں گوگل کے صرف امریکی صارفین ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ گوگل کا یہ نظام جسے عام لوگ ’جی بائی‘ بھی کہہ رہے ہیں گزشتہ ایک برس سے تجرباتی مراحل سے گزر رہا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس نظام کی مدد سے خریدار ایک اکاؤنٹ بنائیں گے جہاں ان کے تمام کریڈٹ کارڈز اور ترسیل کے مقام کی تفصیلات موجود ہوں گی اور اس اکاؤنٹ کی تفصیلات استعمال کرتے ہوئے آن لائن کمپنیاں انہیں گوگل کے اشتہارات کے ذریعے اشیاء فروخت کر سکیں گی۔ تشہیر پر خرچ کیئے گئے ہر ایک ڈالر پر تاجروں کو ملنے والے آرڈرز کی پروسیسنگ کے اخراجات میں دس ڈالر کی چھوٹ بھی ملے گی۔ فارسٹر ریسرچ کی شارلین لی کا کہنا ہے کہ’ یہ گوگل کی ایک عمدہ چال ہے اور انہوں نے ایک شاندار طریقے سے اپنی تشہیری کمپنیوں کے معاملات میں موجود خلا پر کیا ہے‘۔ تاہم دیگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گوگل کی اس کوشش کے باوجود مارکیٹ میں ’ای بے‘ اور ’پے پال‘ کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ سٹرلنگ مارکیٹنگ انٹیلیجنس کے گریگ سٹرلنگ کا کہنا تھا کہ’ یہ نظام ’پے پال‘ کو تباہ نہیں کر سکتا اور اس میدان میں جہاں ایک عرصے تک ’پے پال‘ کی اجارہ داری رہی ہے وہاں نئے اداروں کی گنجائش یقیناً موجود ہے‘۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کے سامنے آنے کے بعدگوگل اور ای بے کا کھلے عام مقابلہ شروع ہو جائے گا۔ اور اس نظام کے اعلان کے بعد ہی عالمی بازارِ حصص میں ای بے کے حصص کی قدر میں سات فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ | اسی بارے میں گوگل کا مفت آن لائن کیلینڈر13 April, 2006 | نیٹ سائنس ’گوگل معلومات حوالے کردے‘19 March, 2006 | نیٹ سائنس گوگل، پرائیویسی خطرے میں11 February, 2006 | نیٹ سائنس ’گوگل،مائیکرو سافٹ میں تصفیہ‘24 December, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||