وائرس ای میل منصوبہ، تین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر کے تین ایسے ماہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ای میل کے ذریعے دنیا میں وائرس پھیلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کمپیوٹر کے مالک کے علم کے بغیر اس کے کمپیوٹر کو متاثر کرتا ہے اور اس کے ذریعے وائرس پھیلانے والا کسی کے بھی کمپیوٹر سے ذاتی اور تجارتی نوعیت کی معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ گرفتار ہونے والے تینوں افراد کے بارے میں الزام ہے کہ انہوں نے کم از کم دو ہزار پانچ سے برطانیہ کے کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا ہوا تھا اور انہوں نے پوری دنیا میں کمپیوٹر وائرس پھیلایا۔ گرفتار ہونے والوں میں برطانوی شہر سفولک میں ایک تریسٹھ سالہ شخص، سکاٹ لینڈ میں ایک اٹھائیس سالہ شخص اور فِن لینڈ میں ایک انیس سالہ لڑکا شامل ہیں۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ تینوں ای میل کے ذریعے وائرس پھیلانے والے ایک گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام ’موپ‘ ہے۔ گرفتاریاں میٹروپولیٹن پولیس اور فِن لینڈ کے حکام کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کے کمپیوٹر کرائم یونٹ کے سراغ رساں کانسٹیبل بوب برلز نے اس بارے میں کہا کہ ’یہ اہم نتائج قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے مابین بین الاقوامی تعاون کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ملزمان نے ایسے وائرس تیار کیئے تھے جن کا مقصد بڑے پیمانے پر انفیکشن پھیلانا تھا‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کارروائی سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ ملکی سرحدیں اب حکام کو کارروائی سے نہیں روکیں گی۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے اور کئی کمپیوٹر اور سرور بھی قبضے میں لے لیئے۔ |
اسی بارے میں کراچی میں کمپیوٹر لنڈا بازار05 June, 2006 | نیٹ سائنس انسانی ذہن پڑھنے والا کمپیوٹر26 June, 2006 | نیٹ سائنس سائبر جرائم: بی بی سی کا استعمال01 April, 2006 | نیٹ سائنس امریکہ پر کمپیوٹر حملے کی مشقیں12 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||