لیزر سے مہاسوں اور موٹاپے کا علاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدان ایک ایسے لیزر طریقہِ علاج پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے افراد کے جسم کی چربی کو پگھلایا جا سکے گا۔ امریکہ میں مسیاچویوسٹس جنرل ہسپتال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہِ علاج کو دل کی بیماری، سیلولائٹ اور مہاسوں جیسی بیماریوں کے علاج کے لیئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اسں طریقہِ علاج میں لیزر کے ذریعے پہلی بار جسم کی چربی کو جلد کو نقصان پہنچائے بغیر گرمی پہنچائی جا سکے گی۔ ریسرچ کے دوران سائنسدانوں فری الیٹرون لیزر کو خاص ویولینتھ پر استعمال کر کے چربی کو گرم کرنے میں کامیاب ہوئے جو بعد میں توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر جسم سے خارج ہو گئی۔ مسیی چویوسٹ جنرل ہسپتال کے شعبہ امراض جلد کے پروفیسر راکس اینڈرسن اس ٹیم کے سربراہ تھے جس نے سور کی چربی اور اس کی جلد کے دو انچ موٹے سیمبل پر یہ تحربہ کیا۔ ڈاکٹر راکس اینڈرسن کے مطابق اس ریسرچ کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ فوٹوتھرمولیسِس یا روشنی سے ٹشوز کو گرم کرنے کا عمل مستقبل میں طبی شعبے میں مہاسوں کے علاج کے لیئے استعمال کیا جا سکے گا۔ ’مہاسوں کی اصل وجہ سیبا سیوس نامی گلینڈ ہے جو جلد کی سطع سے چند ملی میٹر نیچے پایا جاتا ہے۔ ہم خاص طور پر سیوس گلینڈ کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں اور ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ہم اس نوعیت کی لیزر شعاعیں بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو ایسا کرنا ممکن ہے۔‘ اسی طرح اس عمل کے ذریعے سیلولائٹ، جسم کی چربی اور آرٹریز میں بننے والے مادوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو دل کے دورے کا باعث بنتے ہیں۔ | اسی بارے میں مٹاپا کم کرنے کے منصوبے پر امریکی مخالفت21 January, 2004 | نیٹ سائنس موٹاپا: بیماری یا صحت کی علامت؟20 April, 2005 | نیٹ سائنس ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق18 July, 2005 | نیٹ سائنس موٹے افراد وزن کم کرنا نہیں چاہتے09 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||