| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مٹاپا کم کرنے کے منصوبے پر امریکی مخالفت
عالمی ادارۂ صحت نے امریکہ کی جانِب سے اعتراض کیے جانے کے بعد مٹاپے کو کم کرنے سے متعلق اپنے پروگرام کی منظوری کو ملتوی کر دیا ہے۔ جینیوا میں عالمی ادارۂ صحت کے اجلاس میں اس پروگرام کے لئے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی حمایت کے باوجود امریکی مندوب نے اس کی منظوری کو ایک مہینے کے لئے ملتوی کروادیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ایک ماہ کے دوران ان پروگرام میں تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا۔ مٹاپا اب صرف امیر ممالک کا مسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی لوگ تیزی سے اس کا شکار ہورہے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم تین سو ملین افراد خطرناک حد تک مٹاپے کا شکار ہیں۔ مٹاپے کے باعث کئی ایسی بیماریاں بھی جان لیوہ ثابت ہوسکتی ہیں جن کا بصورت دیگر علاج ممکن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مٹاپے کا شکار افراد میں سے بہت سے لوگ ایسی بیماریوں سے موت کا شکار ہوجائیں گے جنہیں دوسری صورت میں روکا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت چاہتا ہے کہ اس مسئلے سے حکومتی سطح پر نمٹا جائے اور حکومتیں لوگوں کو ایک صحت مند طرز زندگی فراہم کراتے ہوے اشیائے خوردو نوش تیار کرنے والی کمپنیوں کو شوگر اور موٹا کرنے والے اجزاء کو کم کرنے پر مجبور کریں۔ جنیوا میں ہونے والے ڈبلیو ایچ او کے اجلاس میں امریکی مندوب نے کہا کہ یہ تجاویز اچھی شروعات ہیں لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کیا کھایا جاۓ اور کیا نہیں لوگوں کا ذاتی معاملہ ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ امریکہ اشیاۓ خوردنی بنانے والی بڑی کمپنیوں کے دباؤ کے تحت یہ موقف اپنا رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے اس منصوبے کی منظوری کے بعد اسے حتمی ووٹنگ کے لیۓ مئ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا جاۓ گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||