’ایپل‘ کمپیوٹر محفوظ نہیں رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ایپل‘ کے میکنٹوش صارفین کو ایپل کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے ایکس سافٹ ویئر آپریٹنگ سسٹم کو متاثر کرنے والے پہلے وائرس کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ یہ وائرس پروگرام جسے ’لیپ اے‘ کا نام دیا گیا ہے، ایپل کمپیوٹر کے انسٹنٹ میسج پروگرام ’آئی چیٹ‘ کے ذریعے پھیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وائرس اپنے آپ کو ایپل کے آنے والے آپریٹنگ سسٹم کی تصاویر کے طور پر ڈھالتا ہے۔ کمپیوٹر سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ’لیپ اے‘ زیادہ تیزی سے نہیں پھیلا اور اس سے زیادہ ایپل صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔ سکیورٹی کمپنی نے اس وائرس کو لیول ون درجے کا وائرس قرار دیا ہے جو کہ سب سے کمزور تصور کیا جاتا ہے تاہم سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اب میک صارفین ایسا نہیں سوچ سکتے کہ وہ وائرس حملوں سے محفوظ ہیں۔ یہ وائرس پروگرام صارف کو پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنے پر مجبور کرتا ہے اور ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد یہ صارف کے کمپیوٹر میں موجود فائلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سمینٹک سکیورٹی کے ایک افسر کیون ہوگن کا کہنا ہے کہ’ اس وائرس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ’آئی چیٹ‘ میسنجر کے استعمال کے دوران کوئی بھی فائل ڈاؤن لوڈ نہ کریں چاہے وہ آپ کے کسی دوست کے نام سے ہی آئی ہو‘۔ | اسی بارے میں امریکہ پر کمپیوٹر حملے کی مشقیں12 February, 2006 | نیٹ سائنس پی سی کیلیے 3 فروری تک خطرہ31 January, 2006 | نیٹ سائنس ’تخریب کار وائرس سے ہوشیار رہیں‘30 January, 2006 | نیٹ سائنس پی سی وائرس کے بیس سال23 January, 2006 | نیٹ سائنس زوٹوب وائرس کے خالق گرفتار27 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||