175 سالہ کچھوے کی سالگرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے ایک زُو میں دنیا کے سب سے عمر رسیدہ کچھوے کی سالگرہ منائی گئی ہے۔ یہ کچھوا آسٹریلیا کے چڑیا گھر میں گزشتہ سترہ برس سے موجود ہے اور اس کی سالگرہ منانے گلابی رنگ کی ان جھاڑیوں سے کیک بنایا گیا جن پر پھول لگے ہوئے تھے۔ اگرچہ اس مادہ کھچوے کی تاریخِ پیدائش کا علم نہیں ہے لیکن ڈی این اے کے ذریعے اس کے جو ٹیسٹ ہوئے ہیں ان سے اشارہ ملتا ہےکہ اس جانور کی اندازً عمر کیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہیریٹ نامی یہ کچھوا وہی ہے جسے چارلس ڈارون نے اپنے مطالعے کے دوران مشاہدے کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ڈارون جو نظریۂ ارتقاء کی وجہ سے اپنی پہچان رکھتے ہیں، کئی نوجوان کھچوے لندن لے آئے تھے۔ ڈی ان اے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ آسٹریلیا کے زُو میں موجود کچھوا شاید اٹھارہ سو تیس میں پیدا ہوا تھا۔ ڈارون اس علاقے میں، جہاں اس کچھوے کی پیدائش ہوئی تھی، اٹھارہ سو پینتیس میں گئے تھے۔ لیکن ایک عجیت بات یہ ہے کہ ہیریٹ نام یہ مادہ کھچوا، کھچوؤں کی ایک ماتحت نسل سے ہے جو ایسی جگہ پیدا ہوتی ہے جہاں ڈارون کبھی نہیں گئے تھے۔ جب ڈارون نے اس علاقے کا دورہ کیا تھا جہاں ہیریٹ پیدا کی پیدائش ہوئی تھی، اس وقت یہ مادہ کچھوا کھانے کے لیے استعمال ہونے والی بڑی پلیٹ جتنا ہوگا۔ اب اس کا وزن ڈیڑھ سو کلو گرام ہے اور اس کی جسامت کھانے کی میز جتنی ہو چکی ہے۔ سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ہیریٹ کی حیثیت ایسی ہوگئی ہے جیسی کسی مشہور شخصیت کی ہو۔ اسے ہر روز نہلایا جاتا ہے اور کھانے میں اسے وہی خوارک دی جاتی ہے جو سبزیاں کھانے والے کھاتے ہیں۔ اس کچھوے کی طویل العمری کا راز یہ ہے کہ اس کی زندگی دباؤ کے بغیر گزری ہے۔ | اسی بارے میں سمندری کچھووں کی واپسی05 April, 2005 | نیٹ سائنس دو سروں والے کچھوے کی دریافت16 May, 2005 | نیٹ سائنس ’اپنی طرح کے پہلے بلونگڑے‘23 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||