کثرت شراب نوشی، بڑی توند کی وجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ہی نشست میں زیادہ شراب پینے والے لوگوں میں موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شراب کی ایک مقررہ مقدار کو اگر ایک نشست میں پی لیا جائے تو شراب پینے والا اس شخص کی نسبت جلدی موٹاپے کا شکار ہو سکتا ہے جو وہی مقدار ایک ہفتے کے دوران پیے۔ ڈنمارک کے الکوحل پر تحقیق کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ایک نشست میں زیادہ شراب پینے والے بیماریوں کا جلد شکار ہو سکتے ہیں۔ اس ادارے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مورٹن گرونبیک کا کہنا تھا کہ’ اس بات کی نشاندہی ہوئی ہے کہ ایک نشست میں زیادہ شراب پینے والے زیادہ جلدی موٹے ہوتے ہیں‘۔ پروفیسر گرونبیک نے بتایا کہ فربہ لوگوں میں دل کی بیماری، بلند فشارِ خون اور ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ پروفیسر گرونبیک اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق میں ستاون ہزار لوگوں کے جائزے کے بعد اس خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معتدل طریقے سے کی جانے والی شراب نوشی دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ پروفیسر گرونبیک نے بتایا کہ روزانہ الکوحل کے ایک یا دو یونٹ دل کی بیماری انہوں نے یہ بھی بتایا کہ معتدل شراب نوشی بھی چالیس سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ برطانیہ میں خواتین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ دن میں تین سے زیادہ جام نہ پیئیں جبکہ مردوں کے لیے یہی حد چار جام تک کی ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ہر پانچواں مرد اور گیارہویں عورت شراب نوشی کی زیادتی کا شکار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||