BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 November, 2004, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کثرت شراب نوشی، بڑی توند کی وجہ
News image
ایک نشست میں زیادہ شراب پینے والے زیادہ جلدی موٹے ہوتے ہیں
ایک ہی نشست میں زیادہ شراب پینے والے لوگوں میں موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شراب کی ایک مقررہ مقدار کو اگر ایک نشست میں پی لیا جائے تو شراب پینے والا اس شخص کی نسبت جلدی موٹاپے کا شکار ہو سکتا ہے جو وہی مقدار ایک ہفتے کے دوران پیے۔

ڈنمارک کے الکوحل پر تحقیق کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ایک نشست میں زیادہ شراب پینے والے بیماریوں کا جلد شکار ہو سکتے ہیں۔

اس ادارے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مورٹن گرونبیک کا کہنا تھا کہ’ اس بات کی نشاندہی ہوئی ہے کہ ایک نشست میں زیادہ شراب پینے والے زیادہ جلدی موٹے ہوتے ہیں‘۔

پروفیسر گرونبیک نے بتایا کہ فربہ لوگوں میں دل کی بیماری، بلند فشارِ خون اور ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

پروفیسر گرونبیک اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق میں ستاون ہزار لوگوں کے جائزے کے بعد اس خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معتدل طریقے سے کی جانے والی شراب نوشی دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

پروفیسر گرونبیک نے بتایا کہ روزانہ الکوحل کے ایک یا دو یونٹ دل کی بیماری
سے بچاؤ میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ہفتے میں دو دن دس جام شراب پینے سےالکوحل سے متعلقہ بیماریوں سے موت کا خطرہ دس گنا بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ معتدل شراب نوشی بھی چالیس سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔

برطانیہ میں خواتین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ دن میں تین سے زیادہ جام نہ پیئیں جبکہ مردوں کے لیے یہی حد چار جام تک کی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ہر پانچواں مرد اور گیارہویں عورت شراب نوشی کی زیادتی کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد