| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلانوشی، زندگیاں تباہ، خزانے پر بوجھ
برطانیہ میں حکومت کی رپورٹ کے مطابق حد سے زیادہ شراب پینے کا شوق یعنی بلانوشی حکومت کو سالانہ بیس ارب پاؤنڈ میں پڑتی ہے۔ وزیر اعظم کے حکمت عملی بنانے والے یونٹ کے تجزیئے کے مطابق شراب کی وجہ سے لوگوں کے کام پر نہ آسکنے یا صحیح طرح کام نہ کر سکنے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں گھنٹے ضائع ہوتے ہیں۔
ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم خاندانوں کے شراب کے سمندر میں گھل جانے کی بات کر رہے ہیں‘۔ اربوں پاؤنڈ شراب کی وجہ سے ہونے والے جرائم اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے میں خرچ ہوتے ہیں۔ سالانہ بائیس ہزار افراد شراب کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ تیار کرنے والوں کے مطابق بلا نوشی سے ہونے والا نقصان شاید ان کے اندازے سے بھی زیادہ ہو۔ رپورٹ تیار کرنے والوں کے مطابق شراب نوشی کی وجہ سے سالانہ تشدد کے بارہ لاکھ واقعات ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں حادثات اور ایمرجنسی کے شعبوں میں آنے والے چالیس فیصد مریض شراب نوشی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ آدھی رات سے لے کر صبح پانچ بجے تک یہ شرح ستر فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ ملک میں تیرہ لاکھ بچوں کی شخصیت پر شرابی والدین کی وجہ سے منفی اثر پڑتا ہے اور ایسے بچے خود بھی آگے چل کر مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ تین میں سے ایک مرد جبکہ پانچ میں سے ایک عورت حد سے زیادہ شراب پیتی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں میں بھی بلانوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ شغل کے طور پر شراب پینے کی عمر سولہ سال سے لے کر چوبیس سال تک پہنچ گئی ہے۔ برطانوی وزرا شراب نوشی کے مسئلے کے حل کے لئے اگلے سال حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ ایک وزیر کا کہنا تھا کہ پب یعنی شراب خانے کے کھلنے کے اوقات میں تبدیلی سے بھی مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو حد سے زیادہ شراب نوشی کے نقصانات بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |