بدبودار سانس کا علاج لیزر سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کے مطابق بدبودار سانس پر لیزر طریقۂ علاج سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ عام طور پر بدبو دار سانس کی وجہ دانتوں اور مسوڑھوں کے آس پاس بکٹیریا کی موجودگی ہوتی ہے لیکن کچھ مواقع پر ٹانسلز کی خرابی بھی بدبو دار سانس کا باعث بنتی ہے۔ سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق ٹانسلز پر پندرہ منٹ کے لیے لیزر کا استعمال ٹشو میں موجود بکٹیریا کا خاتمہ کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں بدبو کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسرائیلی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ساپر میڈیکل سنٹر میں ترپن مریضوں کا اس طریقۂ علاج کے تحت کامیابی سے علاج کیا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ بدبودار سانس سے چھٹکارا پانے کے لیے بہترین طریقہ باقاعدگی سے دانت صاف کرنا ہی ہے۔ اس تحقیق میں تمام مریضوں کی بدبودار سانس کی وجہ ان کے ٹانسلز کی خرابی تھی نہ کہ دانتوں اور مسوڑھوں کا مسئلہ۔ ان تمام مریضوں کے ٹانسلز کے کناروں میں بکٹیریا موجود تھے جو کہ بدبودار سانس پیدا کر رہے تھے۔ تحقیق دانوں کے مطابق ترپن میں سے اٹھائیس مریضوں نے پہلی بار میں ہی بدبودار سانس سے چھٹکارا پا لیا جب کہ بقیہ لوگوں کو مزید علاج کی ضرورت پڑی۔ امریکی ڈینٹل کونسل کے رچرڈ پرائس کا کہنا تھا کہ یہ طریقۂ علاج آخری حربہ کے طور پر استعمال کر نا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ پہلے روایتی علاج کرنا ہی صحیح ہے‘۔ ایک اور دندان ساز ڈاکٹر فلپ سٹیمر کا کہنا تھا کہ ’ میں اس طریقہ کو نہیں مانتا‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹانسلز بو پیدا ضرور کرتے ہیں لیکن اتنی نہیں کہ سانس کو بدبودار بنا سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||