سؤر کے اعضاء کا انسان میں استعمال؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہارورڈ یونیورسٹی کے کچھ سائنسدانوں کے مطابق سؤر کے جسم کے حصے انسانی جسم میں استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک خو ش آئند خبر ہے کیونکہ عموماّ جانوروں کے اعضاء انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے رہے بلکہ زیادہ تر ریسرچ کے مطابق جانوروں کے جسم کے حصے انسانی استعمال کے لیے نہ صرف موزوں نہیں بلکہ مضرِ صحت ہو سکتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم نے انسان اور سؤر کے جسم سے کچھ سیل یا خلیے لے کر ایک چوہیا کے بدن میں ڈال دئیے۔ 25 ہفتے گزر جانے کے جب اس چوہیا کا معائنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ اس عرصہ کے دوران انسانی جسم اور سؤر کے جسم سے لیے گے دونوں خلیے چوہیا کے جسم میں نہ صرف زندہ تھے بلکہ صحت مند بھی۔ یاد رہے کہ اس سلسلہ میں ماضی میں کی گئی ریسرچ میں یہ خدشات سامنے آئے تھے کہ سؤر کے جسم میں پائے جانے والا ایک وائرس جو کہ سؤر کے لیےتو بےضرر ہے، مگر انسانی جسم میں داخل ہونے پر بیماریاں پیدا کرسکتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے چوہیا کے بدن میں ڈالنے سے پہلے سؤر کے خلیوں سے وائرس کے مذکورہ حصے کو نکال دیا تھا۔ ان سائنسدانوں کے مطابق ان کی تحقیق سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ جانوروں کے اعضاء انسانی استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ تاہم کئی دیگر ماہرین ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیم سے اتفاق نہیں کرتے۔ برطانیہ کے ذاکٹر جوناتھن سٹوئی کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ تحقیق انسانی جسم میں جانوروں کے اعضاء کے ممکنہ استعمال کی جانب ایک قدم ہے تاہم ہمیں اس تحقیق کے نتائج کو قدرے احتیاط سے قبول کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ چوہیا کے جسم میں سؤر کے جو خلیے رکھے گئے تھے وہ نہایت ہی احتیاط سے چنے گئے تھے اور عمومی حالات میں اس درجہ کی احتیاط ممکن نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||