ہیپاٹائٹس سی، ایک ’خاموش وبا‘

ہیپاٹائٹس میں مبتلا 95 فیصد لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس سے متاثر ہیں

،تصویر کا ذریعہPUNIT PARANJPE AFP

،تصویر کا کیپشنہیپاٹائٹس میں مبتلا 95 فیصد لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس سے متاثر ہیں

آپ ایک ایسے مرض سے کیسے نمٹ سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ جانتے ہی نہ ہوں کہ آپ اس کے مریض ہیں۔

ہیپاٹائٹس سی کا مرض ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے نتائج تباہ کن ہیں۔ اسے دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اس مرض میں مبتلا 95 فیصد لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہیں، اس لیے اس بیماری سے متعلق ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے۔

انڈیا، نیدرلینڈ، منگولیا اور آسٹریلیا میں کیے جانے والے کچھ منصوبوں کو اس بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے پر نوازا گیا ہے۔

طبی ماہرین ہیپاٹائٹس سی کو ایک ’خاموش وبا‘ کہتے ہیں کیونکہ 95 فیصد متاثرین کو یہ ہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔

اس مرض میں مبتلا کئی متاثرین غیر قانونی منشیاں کے عادی ہیں

،تصویر کا ذریعہPaula Bronstein GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشناس مرض میں مبتلا کئی متاثرین غیر قانونی منشیاں کے عادی ہیں

عالمی سطح پر ہیپاٹاٹس سی میں مبتلا تقریباً 150 ملین افراد علاج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے سالانہ طور پر سات لاکھ کے قریب ہلاکتیں پیش آتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس سی جگر کے اس مرض کی پانچ اقسام میں سے سب سے خطرناک ہے اور ان میں سے وہ واحد قسم ہے جس کی کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں ہے۔

اس مرض کی علامات کئی برس تک سامنے نہیں آتیں لیکن جب ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوتی ہے تو علاج کروانے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور جگر کو پہنچنے والا نقصان سرطان میں بھی بدل سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایڈز، ٹی بی یا ملیریا جیسے دیگر امراض کی نسبت اسے پالیسی بنانے والوں سے کم توجہ اور فنڈنگ ملتی ہے۔

یہ مرض خون میں پیدا ہوتا ہے اور طبی آلات کی نامناسب جراثیم کشی سے منتقل ہوتا ہے، لیکن بیشتر کیس سوئی کے اشتراک سے پیدا ہوتے ہیں۔

دنیا بھر کے ہیپاٹائٹس سی کیسز کی تعداد میں دو تہائی منشیات استعمال کرنے والوں کی ہوتی ہے جس کی وجہ ان کی غیر محفوظ سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

ان کیسوں کی ٹیسٹنگ اتنی اہم ہو چکی ہے کہ اگر کسی ٹیسٹ کے دوران ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوتی ہے تو اینٹی وائرل دوائیوں سے 90 فیصد مریضوں کو مدد مل سکتی ہے۔

کئی ممالک اور ادارے اب اس بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے طریقوں اور تشخیص کی شرح میں بہتری لانے کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔

منگولیا میں ہیپاٹائٹس سی کی تیسری سب سے زیادہ شرح ہے

،تصویر کا ذریعہFIRE

،تصویر کا کیپشنمنگولیا میں ہیپاٹائٹس سی کی تیسری سب سے زیادہ شرح ہے

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس سلسلے میں ایک منصوبہ شمال مشرقی انڈیا کی ایک چھوٹی ریاست منی پور میں شروع کیا گیا ہے۔

اس علاقے میں رہنے والے منشیات کے عادی 98 فیصد افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں تاہم یہاں انھیں ایچ آئی وی کے مفت ٹیسٹ تو میسر ہیں لیکن ہیپاٹائٹس سی کے نہیں۔

اس پروگرام کے تحت ریاست بھر میں ٹیسٹنگ کے لیے ایک کمیونیٹی نیٹ ورک تیار کیا گیا ہے۔

’کمیونیٹی نیٹ ورک فار امپاورمنٹ‘ نامی اس منصوبے کے سربراہ راج کمار نلنیکنتا کہتے ہیں :’ ہم نے ایک عام دوا ساز کمپنی کے ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ منظم کی جس نے لوگوں کو تیز رفتاری سے تشخیص کرنے والی کٹس فراہم کی۔‘

اس پروگرام کے تحت کم از کم 1100 افراد نے اپنے ٹیسٹ کروائے جن میں سے نصف کو یہ مرض لاحق تھا۔

دنیا میں جگر کے سرطان کے کیسوں کی بلند ترین سطح منگولیا میں پائی جاتی ہے جو بین الاقوامی اوسط سے چھ گنا زیادہ ہے۔

سنہ 2011 سے ملک کے دیہات میں واقع کلینکس میں ’فائر‘ نامی سکریننگ کا ایک طریقہ آزمایا جا رہا ہے جو ان لوگوں کی ٹیسٹنگ کرتا ہے جنھیں اس مرض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے رشتہ دار سرطان میں مبتلا ہیں۔

اس منصوبے کا اگلا مقصد ’فائر‘ کو 21 صوبوں تک پہنچانا ہے۔

تاہم کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سکریننگ کروانے سے صورت حال بہتر نہیں ہو گی کیونکہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج کرنے والے ادویات بہت مہنگی ہیں۔

کچھ ممالک نے ان ادویات کی عام اقسام متعارف کروائی ہیں جس سے قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس کے خلاف لڑائی کے فیصلے حکمران کے ہاتھوں میں ہیں، جنھیں سکریننگ اور علاچ کے طریقۂ کار کو سستا کرنا پڑے گا۔