خلیوں نے ڈیڑھ ارب سال پہلے ہی ساتھ رہنا سیکھ لیا تھا

سمندری حیات کی یہ قسم شاید قدیم سمندروں کی چٹانوں میں رہتی تھی اور اس کی مشابہت کسی حد تک کائی جیسی تھی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسمندری حیات کی یہ قسم شاید قدیم سمندروں کی چٹانوں میں رہتی تھی اور اس کی مشابہت کسی حد تک کائی جیسی تھی

چین سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ خلیوں نے ایک ارب سال سے بہت پہلے ہی خود کو منظم کرنا اور مل کر رہنا شروع کر دیا تھا۔

چین کے شمال میں یان شان نامی علاقے میں مٹی کے ایک تودے سے ملنے والے ایک سینٹی میٹر لمبے جاندار کی عمر ڈیڑھ ارب سال سے بھی زیادہ ہے۔

انسانی آنکھ سے براہِ راست دیکھے جا سکنے والے جانداروں کی باقیات کی تاریخ اس سے پہلے 54 کروڑ سال تا 63 کروڑ سال قبل پر محیط تھی۔

لیکن حال ہی میں دریافت ہونے والا یہ جاندار ان سے عمر میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

چین اور امریکہ کے سائنس دانوں کے محققین کی ٹیم کی اس دریافت کے بارے میں تفصیلات سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشن‘ میں چھپی ہیں۔

سمندری حیات کی یہ قسم شاید قدیم سمندروں کی چٹانوں میں رہتی تھی اور اس کی مشابہت کسی حد تک کائی کی طرح تھی۔

وہ چٹان جس سے تازہ دریافت شدہ جاندار کا فاسل ملا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنوہ چٹان جس سے تازہ دریافت شدہ جاندار کا فاسل ملا

یہ جاندار فوٹو سینتھیسس یا ضیائی تالیف کا استعمال کرتے تھے۔ اس طریقے سے پودے، بیکٹیریا اور بعض سادہ ساخت کے جاندار سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔

اس دور میں 53 مختلف جانداروں میں 26 (49 فیصد) لکیری شکل کے تھے، 16 ( 30 فیصد) کی شکل فانہ جیسی، آٹھ (15 فیصد) زبان جیسے اور تین (6 فیصد) مستطیل کی شکل کے تھے۔

سمندری حیات 30 سینٹی میٹر لمبی اور آٹھ سینٹی میٹر چوڑی پائی گئی ہیں۔