بچوں میں ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے تحقیق

،تصویر کا ذریعہPA
سکاٹ لینڈ میں ایک تحقیق کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کا مقصد بچوں میں ٹائپ ون ذیابیطس پر قابو پانا ہے۔
تحقیق کار ملک بھر میں اس مرض سے متاثرہ تقریباً 6400 خاندانوں سے رابطے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
وہ بچے جن کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کوئی ذیابیطس قسم اول کے مرض کا شکار ہے، ان کے خون کے ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان کو یہ مرض لاحق ہونے کے کتنے امکانات ہیں۔
وہ بچے جنھیں یہ مرض لاحق ہونے کا خطرہ ہو گا ان کو میٹفورمِن نامی دوا دی جائے گی تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ دوا اس بیماری پر قابو پانے میں کتنی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔
میٹفورمِن پہلے ہی سے ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس دوا کے استعمال سے مرض کو لاحق ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو اس سے ذیابیطس قسم اول کے بارے میں پرانے خیالات پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔
متبادل نظریہ
ذیابیطس قسم اول کا مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جسم انسولین پیدا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وسیع پیمانے پر کی جانے والی تحقیق کے باوجود اب تک اس مرض کو لاحق ہونے سے روکنے کا کوئی طریقہ تلاش نہیں کیا جا سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مرض انسان کے مدافعتی نظام میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جب وہ لبلبے میں انسولین پیدا کرنے والے بیٹا خلیات کو غلطی سے جسم کے لیے مضر سمجھ کر ان پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
’ایڈاپٹ‘ نامی اس تحقیق میں ایک متبادل نظریے کی چھان بین کی جائے گی جسے یونیورسٹی آف ایکسیٹر میڈیکل اسکول کے پروفیسر ٹیرینس وِلکن نے پیش کیا ہے۔ اس تجربے میں مدافعتی نظام کو چھیڑنے کے بجائے بیٹا خلیات کو محفوظ رکھنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
پروفیسر ولکن کا خیال ہے کہ اصل نقصان کا باعث وہ بوجھ ہے جو جسم میں انسولین کی طلب کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بیٹا خلیات پر پڑتا ہے۔
اس کے بعد بعض لوگوں میں مدافعتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے اور مزید بیٹا خلیوں کو مارنا شروع کر دیتا ہے، جس سے بچپن ہی میں ذیابیطس کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ یہی ذیابیطس قسم اول ہے۔
انھیں امید ہے کہ میٹفورمن بیٹا خلیات پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گی تاکہ وہ انسولین بنانے کا عمل جاری رکھ سکیں۔
خلیات پر دباؤ
پروفیسر ولکن کہتے ہیں کہ ’ممکن ہے کہ جدید ماحول سے بیٹا خلیات پر ضرورت سے زیادہ دباؤ پڑتا ہو، جس کے نتیجے میں ذیابیطس قسم اول زیادہ سے زیادہ کم عمری میں لاحق ہو رہا ہے۔
’اس تحقیق میں استعمال کی جانے والی دوا بیٹا خلیات پر دباؤ کو روکنے کی کوشش کرے گی تاکہ وہ زیادہ طویل عرصے تک فعال رہ کرانسولین بنانے کا کام جاری رکھ سکیں۔‘
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے ذیابیطس قسم اول کے خطرے سے دوچار بچوں کے لیے فوری اور سستا علاج میسر آ جائے گا۔
ذیابیطس قسم اول پر کام کرنے والا ایک خیراتی ادارہ جے ڈی آر ایف اس تجربے کے لیے مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔
سکاٹ لینڈ ذیابیطس قسم اول کے مریضوں کی تعداد کے سلسلے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، ساتھ ہی وہاں متاثرہ خاندانوں کی شناخت کا ریکارڈ رکھنے کا بہتر نظام بھی موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
اس تحقیق کا آغاز ٹےسائیڈ قصبے سے کیا جائے گا جس کا دائرہ بعد میں پورے سکاٹ لینڈ تک بڑھا دیا جائے گا۔ بعد ازاں اس تحقیق کے تجربات انگلینڈ میں بھی کیے جائیں گے۔
ذیابیطس کی دو اہم اقسام ہیں۔ پہلی قسم جس میں لبلبہ کسی بھی قسم کی انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہوتا ہے، جبکہ دوسری قسم میں یا تو لبلبہ مطلوبہ تعداد میں انسولین پیدا نہیں کر پاتا یا بھر جسم کے خلیات انسولین کو اس کا کام کرنے نہیں دیتے۔
ذیابیطس قسم اول عمر کے کسی حصے میں بھی لاحق ہو سکتی ہے لیکن عموماً 40 سال کی عمر سے قبل بلکہ بسا اوقات بچپن ہی میں ظاہر ہو جاتی ہے۔
ذیابیطس کا شکار تمام مریضوں میں دس فیصد قسم اول کا شکار ہیں اور بچے زیادہ تر اسی قسم کی ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسی لیے اسے کبھی کبھار ’بچوں کی ذیابیطس‘ یا ’ابتدائی عمرکی ذیابیطس‘ بھی کہا جاتا ہے۔
تقریباً 90 فیصد بالغ افراد ذیابیطس قسم دوم کا شکار ہیں جو ان میں 40 سال کی عمر کے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہے۔







