ڈیلی میل کا یاہو خریدنے پر غور

یاہو کے حصص سنہ 2014 کے اواخر تک 30 فی صد تک گر چکے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیاہو کے حصص سنہ 2014 کے اواخر تک 30 فی صد تک گر چکے تھے

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مالک مشکلات کی شکار امریکی انٹرنیٹ کمپنی یاہو کو خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

ڈیلی میل کے ترجمان نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بات چیت ’اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور یہ بات یقینی نہیں ہے کہ معاہدہ تکمیل تک پہنچےگا۔‘

وال سٹریٹ جرنل، جہاں پہلی مرتبہ یہ خبر شائع کی گئی، کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل اور جرنل ٹرسٹ (ڈی ایم جی ٹی) اس پیشکش کے متعلق نجی کاروباری کمپنیوں کے ساتھ مذاکراتی عمل میں مصروف ہیں۔

یاہو کو اپنے حصہ داروں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کرے۔

ڈیلی میل کے مالک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس حوالے سے کئی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے جو ممکنہ بولی دہندہ ہو سکتے ہیں۔‘

وال سٹریٹ جرنل نے اس معاملے سے واقف لوگوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ممکنہ بولی دو شکلوں میں لگائی جا سکتی ہے۔

یاہو نے پارٹیوں کی جانب سے پیشکشیں جمع کرانے کے لیے مقررہ تاریخ 18 اپریل دی ہے۔

امریکی کمپنی ٹائم اِنک کے متعلق بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ایک نجی کاروباری فرم کے ساتھ مل کر بولی لگائے گی۔

اس سال کے آغاز میں یاہو کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو مریسا مائرز کے کمپنی کو دوبارہ منافع کی جانب لانے کے ’جارحانہ‘ منصوبے کے تحت وہ اپنی افرادی قوت میں 15فی صد تک کمی کرے گی۔

بین الاقوامی سرمایہ کاری کے گروپ ایبرڈین ایسیٹ مینیجمنٹ کے رچرڈ ڈنبر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’(یاہو) فیس بُک اور گوگل کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ گذشتہ دس برسوں کے دوران اس کی فروخت آدھی ہو چکی ہے، اس کے برعکس میل آن لائن ناقابلِ یقین حد تک کامیاب رہا ہے، اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی انگریزی زبان کی صحافتی ویب سائٹ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات دلچسپ ہوگی کہ اس معاہدے کی شرائط طویل عرصے سے یاہو پر مسائل کا شکار حصہ داروں کے لیے قابلِ قبول ہوں گی یا نہیں۔‘

یاہو کے حصص سنہ 2014 کے اواخر تک 30 فی صد تک گر چکے تھے۔